نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 120 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 120

۹۹ انہیں خلیفہ مقرر فرمایا ہے اور کسی انسان نے انہیں خلیفہ نہیں بنایا۔یہ تقرری خدا تعالیٰ کی طرف سے تھی۔یہ درست ہے کہ یہ تقرری حکمت الہیہ کے ماتحت بالواسطہ ہوئی تھی بایں ہمہ حضرت عمرؓ یہی سمجھتے اور اسی نظریہ پر قائم تھے کہ اس منصب خلافت پر اللہ تعالیٰ نے ہی آپ کو فائز فرمایا۔۳۔حضرت عثمان بنما بھی یہی مذہب تھا۔آپ فرماتے ہیں۔(الف) ثُمَّ اسْتَخْلَفَ اللهُ أَبَابَكْرِ فَوَاللَّهِ مَاعَصَيْتُهُ وَلَا غَشَشْتُهُ۔(بخاری کتاب هجرة الحبشه) پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر کو خلیفہ مقررفرمایا اور خدا تعالیٰ کی قسم میں نے ان کو پوری پوری اطاعت کی۔میں نے نہ تو کبھی آپ کی نافرمانی کی اور نہ ہی کبھی۔آپ کو دھوکا دیا۔(ب) باغیان خلافت نے جب فتنہ پیدا کیا اور خلافت کے منصب کی توہین کے لئے کمر بستہ ہو گئے اور حضرت عثمان سے مطالبہ کیا کہ وہ خلافت سے الگ ہو جائیں تو خدا تعالیٰ کے اس محبوب بندے نے بڑے زور اور پوری قوت سے ان کے مطالبہ کورد کرتے ہوئے کہا کہ:۔مَا كُنتُ لَا خُلَعَ سِربَالًا سَرُبَلَيْهِ اللَّهُ تَعَالَى عَزَّوَجَلَّ۔طبری جلد ۵ ص ۱۲۱، از ابی جعفر محمد بن جریر الطبری) میں کبھی بھی اس رداء خلافت کو جو عزت و جلال والے خدا نے مجھے پہنائی نہیں اتاروں گا۔اگر حضرت عثمان کا یہ مذہب اور ایمان نہ ہوتا کہ خلیفہ خدا بناتا ہے تو کس طرح ممکن تھا کہ ایسے خطر ناک حالات میں جب ان کی جان کو خطرہ سامنے تھا اس جرات