نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 106
۸۵ میں لگے رہو۔وحدت کو ہاتھ سے نہ دو۔دوسرے کے ساتھ نیکی اور خوش معاملگی میں کوتاہی نہ کرو۔تیرہ سو برس کے بعد یہ زمانہ ملا ہے اور آئندہ یہ زمانہ قیامت تک نہیں آسکتا۔پس اس نعمت کا شکر کرو۔کیونکہ شکر کرنے پر ازدیاد نعمت ہوتا ہے۔لَئِنُ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ (ابراہیم : ۸) لیکن جو شکر نہیں کرتا وہ یادر کھے إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ۔(ابراہیم : ۸)‘ ( خطبات نورص ۱۳۱) اس تعلق میں سید نا حضرت الصلح الموعود فرماتے ہیں:۔” جب تک بار بار ہم سے مشورے نہیں لیں گے اس وقت تک ان کے کام میں کبھی برکت پیدا نہیں ہو سکتی۔آخر خدا نے ان کے ہاتھ میں سلسلہ کی باگ نہیں دی میرے ہاتھ میں سلسلہ کی باگ دی ہے۔انہیں خدا نے خلیفہ نہیں بنایا مجھے خدا نے خلیفہ بنایا ہے اور جب خدا نے اپنی مرضی بتانی ہوتی ہے تو مجھے بتا تا ہے انہیں نہیں بتا تا۔پس تم مرکز سے الگ ہو کر کیا کر سکتے ہو۔جس کو خدا اپنی مرضی بتاتا ہے جس پر خدا اپنے الہام نازل فرماتا ہے جس کو خدا نے اس جماعت کا خلیفہ اور امام بنادیا ہے اس سے مشورہ اور ہدایت حاصل کر کے تم کام کر سکتے ہو۔اس سے جتنا تعلق رکھو گے اسی قدر تمہارے کاموں میں برکت پیدا ہوگی۔وہی شخص سلسلہ کا مفید کام کرسکتا ہے جو اپنے آپ کو امام سے وابستہ رکھتا ہے۔اگر کوئی شخص امام کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ نہ رکھے تو خواہ وہ دنیا بھر کے علوم جانتا ہو وہ اتنا کام بھی نہیں کر سکے گا جتنا بکری کا بکروٹہ کر سکتا ہے“۔(الفضل۲۰ نومبر ۱۹۴۶ء) -۵- کامل اطاعت و فرمانبرداری نظام خلافت سے وابستگی ہم سے کامل اطاعت اور فرمانبرداری کا تقاضا کرتی