نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 77 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 77

۵۶ کی حقیقت کو لوگوں کے دلوں میں راسخ کرنے کی کوشش کی وہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔آنحضرت ﷺ کی جب وفات ہوئی تو صحابہ پر اس کا اتنا اثر ہوا کہ وہ گھبرا گئے اور ماننے کے لئے تیار ہی نہیں تھے کہ آپ وفات پاگئے ہیں۔حضرت عمر فاروق پر بھی اتنا اثر تھا کہ آپ تلوار لے کر کھڑے ہو گئے کہ جو کہے گا کہ آنحضرت ﷺ وفات صلى الله پاگئے ہیں میں اس کا سرتن سے جدا کر دوں گا۔ایسے وقت میں توحید کا علم بلند کرنے والا کون تھا ؟ وہ حضرت ابوبکر صدیق تھے جن کو خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے بعد پہلا خلیفہ منتخب ہونے کی سعادت بخشی۔جب آپ کو آنحضرت ﷺ کی وفات کی خبر ملی تو آپ سیدھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس حجرہ میں تشریف لے گئے جہاں آپ کا جسد مبارک تھا اور آپ کے چہرہ مبارک سے کپڑا اٹھا کر کہا کہ آپ فی الواقع فوت ہو گئے ہیں اور اپنے محبوب کی جدائی کے صدمہ سے آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔آپ نے جھک کر آپ کی پیشانی مبارک پر بوسہ دیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ تجھ پر کبھی دو موتیں وارد نہیں کرے گا۔پھر سید ھے اس طرف گئے جہاں صحابہ کرام جمع تھے اور فرمایا:۔یعنی اے لوگو! سن لو جو کوئی محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا وہ سن لے کہ محمد مے وفات پاچکے ہیں اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا اسے یادر ہے کہ وہ اللہ اب بھی زندہ ہے اور فوت نہیں ہوا۔(صحیح بخاری باب مناقب ابوبکرؓ) پھر قرآن کی یہ آیت تلاوت فرمائی:۔ترجمہ:۔اور محمد یہ صرف ایک رسول ہیں۔ان سے پہلے سب رسول فوت ہو چکے ہیں۔پس اگر وہ وفات پا جائیں یا قتل کئے جائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں کے بل