نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 426
۴۰۵ بلکہ یہ صورت بھی درحقیقت مشورہ کی ایک قسم مجھی جائے گی۔علاوہ ازیں حضرت عمرؓ کی خلافت کے متعلق آنحضرت ﷺ کی ایک صریح پیشگوئی بھی تھی۔جس کی وجہ سے کسی مسلمان کو ان کی خلافت پر اعتراض نہیں ہوسکتا تھا اور نہ ہوا۔بلکہ سب نے کمال انشراح کے ساتھ اسے قبول کیا۔دوسرا سوال حضرت عثمان کی خلافت کا ہے۔سو اول تو ان کا انتخاب خود محمد ودمشورہ سے ہی ہوا ہو مگر بہر حال وہ بطریق مشورہ تھا اور ان کی خلافت کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ سابقہ خلیفہ کے حکم سے قائم ہوئی تھی اور چونکہ اسلام نے مشورہ اور انتخاب کے طریق کی تفاصیل میں دخل نہیں دیا بلکہ تفاصیل کے تصفیہ کو وقتی حالات پر چھوڑ دیا ہے اس لئے محدود مشورہ کا طریق جو حضرت عثمان کی خلافت کے متعلق اختیار کیا گیا وہ ہرگز اسلامی تعلیم کے خلاف نہیں سمجھا جاسکتا۔خصوصاً جبکہ اس بات کو بھی مدنظر رکھا جاوے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف نے جو اس شوریٰ کے صدر تھے جس نے حضرت عثمان کی خلافت کا فیصلہ کیا اپنے طور پر بہت سے اہل الرائے صحابہ سے مشورہ کر لیا تھا اور رائے عامہ کو ٹولنے کے بعد خلافت کا فیصلہ کیا گیا تھا اور پھر یہ کہ اس وقت حالات ایسے تھے کہ اگر اس معاملہ کو کھلے طریق پر رائے عامہ پر چھوڑا جاتا تو ممکن تھا کہ کوئی فتنہ کی صورت پیدا ہو جاتی۔علاوہ ازیں حضرت عمرؓ نے یہ بھی تصریح کر دی تھی کہ گو میرے لڑکے کو مشورہ میں شامل کیا جاوے۔مگر اسے خلافت کا حق نہیں ہوگا۔پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت عمر کی طرح حضرت عثمان کی خلافت کے متعلق بھی آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی تھی۔اس لئے ان کی خلافت پر کسی مسلمان کو اعتراض نہیں ہوا۔(سيرة خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے ص ۴۶،۴۵ نیا ایڈیشن از نظارت اشاعت ربوہ )