نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 421 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 421

كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ اس لئے ضروری تھا کہ ان کے کام کو چلانے والے بھی اسی رنگ میں آئیں جس طرح اس امت میں نبی آنے تھے یعنی ان کے انتخاب میں قوم کو دخل نہ ہوتا تھا بلکہ انتخابی خلیفہ ہوں تا کہ امت محمدیہ کی پوری ترجمانی کرنے والے ہوں اور امت کی قوت کا صحیح نشو و نما ہو۔چنانچہ اس حکم کی وجہ سے ہر خلیفہ اس بات پر مجبور ہے کہ وہ لوگوں میں زیادہ سے زیادہ علم اور سمجھ کا مادہ پیدا کرے تا کہ وہ اگلے انتخاب میں کوئی غلطی نہ کر جائیں۔پس یہ فرق اس وجہ سے ہے کہ نبی کریم ﷺ سید الانبیاء ہیں اور آپ کی امت خَيْرُ الْأُمم ہے۔جس طرح سید الانبیاء کے تابع نبی آپ کے فیضان سے نبوت پاتے ہیں اسی طرح خَیرُ الامم کے خلفاء قوم کی آواز سے خلیفہ مقرر ہوتے ہیں۔پس یہ نظام اسلام کی برتری اور نئی اسلام اور امت اسلامیہ کے علو مرتبت کی وجہ سے ہے اور اس سے خلافت فردی کو مٹایا نہیں گیا بلکہ خلافت شخصی کو زیادہ بہتر اور کمل صورت میں پیش کیا گیا ہے۔خلافت راشدہ انوار العلوم جلد ۵ ص ۵۶۸ تا ۵۷۰) سوال نمبر ۵:۔منکرین خلافت ایک سوال یہ اٹھاتے ہیں کہ کیا اگر خلافت نہ رہی تو اس وقت کے مسلمانوں کا پھر کیا حال ہوگا۔پہلے بھی تو تمیں سال کے بعد خلافت راشدہ ختم ہوگئی تھی۔اس سے امت مسلمہ پر کون سی قیامت ٹوٹ پڑی تھی ؟ جواب:۔اس سوال کا جواب دیتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔دیکھو قرآن مجید میں وضو کے لئے ہاتھ دھونا ضروری ہے لیکن اگر کسی کا ہاتھ کٹ جائے تو اس کا وضو بغیر ہاتھ دھوئے کے ہو جائے گا۔اب اگر کوئی شخص کسی ایسے ہاتھ کے آدمی کو پیش کر کے کہے کہ دیکھو اس کا وضو ہو جاتا ہے یا نہیں؟ جب یہ کہیں کہ ہاں ہو جاتا ہے تو وہ کہے کہ بس اب میں بھی ہاتھ نہ دھوؤں گا تو کیا وہ راستی پر ہوگا ؟ ہم کہیں