نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 39 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 39

۱۸ ضرور تمكنت عطا کرے گا اور ان کی خوف کی حالت کے بعد ضرور انہیں امن کی حالت میں بدل دے گا۔وہ میری عبادت کریں گے۔میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔اور جو اس کے بعد بھی ناشکری کرے تو یہی وہ لوگ ہیں جو نافرمان ہیں۔اس آیت کو آیت استخلاف کہا جاتا ہے جس میں یہ بات ظاہر فرمائی گئی ہے کہ جس طرح خدا نے پہلے انبیاء کے بعد خلافت کا سلسلہ جاری فرمایا تھا اسی طرح آنحضور کے بعد بھی جاری فرمائے گا اور وہ خلافت نبی کے نور کو لے کر آگے بڑھے گی اور آنحضرت کی نبوت کا تمہ ثابت ہوگی۔اس آیت کریمہ میں نظام خلافت کے تمام بنیادی ضروری مضامین بیان کر دیئے گئے ہیں جن کی تفصیل میں اپنے اپنے موقع پر جایا جائے گا مگر اس جگہ صرف نظام خلافت کے مقاصد کا ذکر کرنا مقصود ہے۔چنانچہ آیت استخلاف میں نظام خلافت کے درج ذیل تین بنیادی مقاصد بیان کئے گئے ہیں۔ا۔تمکنت دین۔یعنی نظام خلافت دین کی مضبوطی کا باعث بنتا ہے۔۲۔خوف کا امن میں تبدیل ہونا۔یعنی دین پر جب بھی کوئی خوف یا خطرے کی گھڑی آتی ہے تو نظام خلافت کے ذریعہ وہ خوف امن اور سکون میں تبدیل ہو جاتا ہے۔۳۔توحید باری تعالیٰ کا قیام۔جیسا کہ قبل از میں بیان کیا گیا ہے کہ انسان کی پیدائش اور انبیاءعلیھم السلام کی بعثت کا بنیادی مقصد خدا تعالیٰ کی صفات کا ظہور ہے۔یعنی توحید خداوندی کا قیام۔پس مذہب اور دین کا یہ بنیادی مقصد بھی