نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 322
بادشاہوں کا قبول احمدیت اور مسیح موعود کے کپڑوں سے برکت کا حصول حضرت مسیح موعود کا الہام ہے۔”بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے“۔یہ الہام پہلی دفعہ ۱۹۶۵ء میں پورا ہوا جب گیمبیا کے گورنر جنرل سرایف ایم سنگھاٹے نے احمدیت قبول کر کے حضرت خلیفہ اسیح الثالث سے حضرت مسیح موعود کے کپڑے کا تبرک حاصل کیا۔یہ نظارہ خلافت رابعہ میں زیادہ شان کے ساتھ نظر آیا۔اپریل ۱۹۸۷ء میں نائیجیریا کے ۳ بادشاہوں نے احمدیت قبول کی جن میں سے ۲ کو حضور نے جلسہ سالانہ برطانیہ پر یکم اگست ۱۹۸۷ء کو حضرت مسیح موعود کے کپڑوں کا تبرک عطا فر مایا۔پھر جلسہ سالانہ ۲۰۰۰ء پر بین کے دو مزید بادشاہوں نے جلسہ سالانہ پر حضور سے حضرت مسیح موعود کے کپڑوں کا تبرک حاصل کیا۔ان میں سے ایک بادشاہ وہ بھی ہیں جن کے ماتحت ۲۰۰ کے قریب بادشاہ ہیں۔یہ اور ان کے علاوہ مزید بادشاہ بھی جلسہ برطانیہ میں ذوق وشوق سے شامل ہوتے ہیں۔حضور نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کا یہ الہام ۱۸۹۸ء کا ہے اور پورے سوسال بعد ۱۹۹۸ء میں ۲۰ بادشاہ جماعت میں داخل ہوئے۔۲۰۰۲ میں بینن کے جلسہ سالا نہ ۲۱ تا ۲۳ دسمبر کے موقع پر قریباً ایک سو بادشاہ شامل ہوئے۔جن میں کنگ آف پرا کو کی سربراہی میں ملک کے بڑے بادشاہوں کا ۳۰ رکنی وفد گھوڑوں پر سوار ہو کر آیا۔اسی طرح نائیجیریا کے سب سے بڑے بادشاہ