نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 29
خلافت کے اصطلاحی معنی اصطلاحی طور پر نبوت کی قائمقامی کا نام خلافت ہے۔خلیفہ وہ ہے جو اپنے انوار و برکات کے افاضہ کے لحاظ سے نبی کا جانشین ہوتا ہے۔نبی کے فرائض کو بجالاتا ہے اور اس کے قائمقام کے طور پر امت کا مطاع اور واجب التسلیم ہوتا ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔خلیفہ کا معنی جانشین کے ہیں۔جو تجدید دین کرے۔نبیوں کے زمانہ کے بعد جو تار یکی پھیل جاتی ہے اس کو دور کرنے کے واسطے جو ان کی جگہ آتے ہیں انہیں خلیفہ کہتے ہیں۔(ملفوظات جلد نیا ایڈیشن ص ۶۶۶) اسی طرح ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:۔” خلیفہ در حقیقت رسول کا ظل ہوتا ہے اور چونکہ کسی انسان کے لئے دائمی طور پر بقاء نہیں لہذا خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ رسولوں کے وجود کو جو تمام دنیا کے وجودوں سے اشرف واولی ہیں۔ظلی طور پر ہمیشہ کے لئے تا قیامت قائم رکھے۔سواسی غرض سے خدا تعالیٰ نے خلافت کو تجویز کیا تا دنیا کبھی اور کسی زمانہ میں برکات رسالت سے محروم نہ ہو۔( شہادت القرآن ص ۵۸ روحانی خزائن جلد ۶ ص ۳۵۳) خلافت کی اقسام قرآن کریم سے تین قسم کی خلافتوں کا ذکر ملتا ہے۔ا۔خلافت نبوت قرآن کریم میں خلافت کا لفظ بمعنی نبوت و ماموریت استعمال ہوا ہے جیسا کہ