نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 262 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 262

۲۴۱ میں پہنچ گئے تھے۔نماز جنازہ سے پہلے سب احباب نے اپنے پیارے امام کا آخری دیدار کیا۔نماز جنازہ کے بعد آپ کو مقبرہ بہشتی ربوہ میں حضرت اماں جان کے مزار کے پہلو میں امانتاً فن کر دیا گیا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی اید و اللہ کی کی پچاس سالہ کامیاب خلافت مرحبا اے گلشن احمد کے نخل مثمریں اے بہائے آدمیت رونق بستان دیں تیرے احسانوں سے گردن جھک گئی ہے دہر کی بھول جائے مادر گیتی تجھے آسماں نہیں تو نے محفل کو دیا ہے ذوق تمکین حیات تیری صحبت اے مہ کامل ہے انجم آفریں تو نے دنیا کو دیا پیغام امن و آشتی مصلح اقوام عالم آفریں صد آفریں قوم احمد کے لئے تیری مساعی صبح و شام کار ہائے زندہ تر اے پیکر عزم و یقیں محفل رنداں میں تھی اک مردنی سی چھا گئی بربط ہستی یہ چھیڑا تو نے ساز دلنشیں اس کے اوصاف حمیدہ کا بیاں کیونکر کریں جن سے ہیں معمور راشد آپ کا ماہ سنیں حسین یاد آئی ہے یاد آج پھر اس حق پرست کی جس نے حریم عرش بریں کو ہلا دیا جس نے حیات تازہ کے نغمے الاپ کر مردوں کو زندگی کا قرینہ سکھا دیا