نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 260 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 260

۲۳۹ اس تقریر سے سب لوگوں کے دلوں میں ایک خاص اطمینان پیدا ہو گیا۔مولوی محمد علی صاحب اور ان کے ساتھیوں نے جب دیکھا کہ جماعت نے ان کی بات نہیں مانی تو وہ حسرت کے ساتھ اس مجمع میں سے اٹھ کر چلے گئے اور پھر چند دن کے بعد مستقل قادیان چھوڑ کر لاہور چلے گئے اور وہاں پر انہوں نے اپنے ساتھیوں کی الگ انجمن قائم کرلی۔شروع شروع میں انہوں نے یہ پروپیگنڈہ کیا کہ بہت تھوڑے لوگ خلافت کے ساتھ ہیں۔مگر آہستہ آہستہ انہوں نے اپنی ناکامی کو محسوس کر لیا اور اقرار بھی کرلیا کہ جماعت احمدیہ کی بہت بھاری اکثریت خلافت کے جھنڈے تلے جمع ہو چکی ہے اور ہم انہیں ورغلانے میں ناکام رہے ہیں۔الحمد للہ علی ذالک! اولاد حضرت مسیح موعود کو اللہ تعالیٰ نے یہ شیر دی تھی کہ:۔تیری نسل بہت ہوگی اور میں تیری ذریت کو بہت بڑھاؤں گا اور برکت دوں گا“۔اس الہام کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کی نسل کو واقعی بہت بڑھایا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے ذریعہ تو یہ الہام خاص طور پر پورا ہوا کیونکہ للہ تعالیٰ نے آپ کو ۱۳ بیٹے اور ۹ بیٹیاں عطا فرمائیں اور پھر یہ اولا د دین کی خاص خدمت کرنے والی ثابت ہوئی۔آپ کے دو صاحبزادے حضرت حافظ مرزا ناصر احمد اور حضرت مرزا طاہر احمد جماعت کے تیسرے اور چوتھے خلیفہ ہوئے۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے وہ جسے چاہے عطا فرماتا ہے۔