نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 215 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 215

۱۹۴ تجهیز و تکفین و تدفين حضور کی وفات کے معا بعد تجہیز و تکفین کی تیاری کی گئی اور جب غنسل وغیرہ سے فراغت ہوئی تو تین بجے بعد دو پہر حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول نے لاہور کی جماعت کے ساتھ خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان میں نماز جنازہ ادا کی۔اور پھر شام کی گاڑی سے حضرت مسیح موعود کا جنازہ بٹالہ پہنچایا گیا۔جہاں سے راتوں رات روانہ ہو کر خلص دوستوں نے اپنے کندھوں پر اسے صبح کی نماز کے قریب بارہ میل کا پیدل سفر کر کے قادیان پہنچایا۔قادیان پہنچ کر آپ کے جنازہ کو اس باغ میں رکھا گیا جو بہشتی مقبرہ کے ساتھ ہے اور لوگوں کو اپنے محبوب آقا کی آخری زیارت کا موقع دیا گیا اور حضرت حافظ حکیم مولوی نورالدین صاحب بھیروی کی بیعت خلافت کے بعد جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے باغ متصل بہشتی مقبرہ میں ایک آم کے درخت کے نیچے ہوئی تھی حضرت خلیفہ اسیح الاول نے حضرت مسیح موعود کے باغ کے ملحقہ حصہ میں تمام حاضر الوقت احمدیوں کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نماز جنازہ ادا کی۔نماز کے بعد چھ بجے شام کے قریب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جسم اطہر کو مقبرہ بہشتی کے ایک حصہ میں دفن کیا گیا۔اور آپ کے مزار مبارک پر پھر ایک آخری دعا کر کے آپ کے غمزدہ رفیق اپنے گھروں کو واپس لوٹے۔اَللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى مَطَاعِهِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلَّمُ۔ملخص از سلسلہ احمدیہ ص ۱۸۶ تا ۱۸۸- از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے شائع کردہ نظارت تالیف و تصنیف قادیان)