نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 140
119 قدرت وسنت ایک خاص نظام پر کارفرما ہے جس کو ” قانون مرکز “ یا ” قانون دوائر“ سے تعبیر کیا جا سکتا ہے یعنی قدرت نے خلقت و نظام خلقت کے بقا و قیام کے لئے ہر جگہ اور ہر شاخ وجود میں یہ صورت اختیار کر رکھی ہے کہ کوئی ایک وجود تو بہ منزلہ مرکز کے ہوتا ہے اور بقیہ اجسام ایک دائرے کی شکل میں اس کے چاروں طرف وجود پاتے ہیں اور پورے دائرے کی زندگی اور بقا صرف اس مرکزی وجود کی زندگی اور بقا پر موقوف ہوتی ہے۔اگر ایک چشم زدن کے لئے بھی دائرہ کے اجسام اپنے مرکز سے الگ ہو جائیں یا مرکز کی اطاعت و انقیاد سے باہر ہو جا ئیں تو معا نظام ہستی درہم برہم ہو جائے اور دائرہ کی اکیلی ہستیاں مرکز سے الگ رہ کر کبھی قائم و باقی نہ رہ سکیں۔یہی وہ حقیقت ہے جس کو بعض اصحاب اشارات نے یوں تعبیر کیا ” الـحـقـیـقـه کالکرہ“ اور صاحب فتوحات نے کہا، دائرہ قاب قوسین ہے“۔ہیں:۔مسئلہ خلافت ص۳۶- از ابوالکلام آزاد مطبوعہ خیابان عرفان کچہری روڈ لاہور ) اسی طرح مولانا ابوالکلام اطاعت خلیفہ کے ضمن میں آگے چل کر مزید فرماتے " قرآن وسنت کے مطابق اس کے جو کچھ احکام ہوں ان کی بلا چون و چراں تعمیل واطاعت کریں۔سب کی زبانیں گونگی ہوں صرف اس کی زبان گویا ہوسب کے دماغ بیکار ہو جائیں صرف اس کا دماغ کارفرما ہولوگوں کے پاس نہ زبان ہو نہ دماغ ہو صرف دل ہو جو قبول کرے صرف ہاتھ پاؤں ہوں جو عمل کریں۔اگر ایسا نہیں تو ایک بھیڑ ہے ایک انبوہ ہے جانورں کا ایک جنگل ہے کنکر پتھر کا ایک ڈھیر ہے مگر نہ تو جماعت ہے نہ امت نہ قوم نہ اجتماع اینٹیں ہیں مگر دیوار نہیں کنکر ہیں مگر پہاڑ نہیں۔قطرے ہیں مگر دریا نہیں کڑیاں ہیں جو ٹکڑے ٹکڑے کر دی جاسکتی