حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 89 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 89

حوادث طبعی یا عذاب الہی امن میں آنے کی خاطر معرض وجود میں آئیں یا جن میں احمدیت اس مشاہدہ کے نتیجہ میں پہلے سے زیادہ پھیلنے لگی کہ طاعون احمدیت سے خاص رعایت کا سلوک کرتی تھی۔ہم یہ بستیاں دکھا کر ہر شک کرنے والے فرقہ سے یہ پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ آخر کیوں ایک عام نفسیاتی خوف وہر اس اور زود اعتقادی نے ساری دنیا کے بڑے بڑے طاقتور مذاہب اور فرقے چھوڑ کر احمدیت کی ایک چھوٹی سی غریب جماعت کا رخ کیا۔اہل بصیرت کے لئے کیا اس میں کوئی نشان نہیں ؟ آخر پر آج کے متلاشی حق کے لئے ہم تحقیق کی ایک یہ راہ بھی تجویز کرتے ہیں کہ اس زمانہ میں احمدیت کے لٹریچر اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں جن احمدی بزرگان اور علماء کا ذکر آتا ہے ان کی فہرست تیار کر کے ان کے حالات زندگی کا جب وہ تتبع کر یگا تو کسی کو طاعونی موت کا شکار نہ پائے گا۔لیکن اس کے بر عکس معاندین احمدیت کی فہرست تیار کر کے اگر وہ اس کسوٹی پر ان کو پر کھے گا تو یہ دیکھ کر یقیناً حیران رہ جائے گا کہ ان میں سے متعدد معروف معاندین مرض طاعون کا شکار ہو گئے بلکہ بعض تو ایسے غیر معمولی حالات میں طاعون کا شکار ہوئے کہ جماعت احمدیہ کے لئے ان کی موت میں تقویت ایمان اور غیروں کے لئے غیرت کا سامان تھا۔قادیان کے ان آریہ اخبار نویسوں کا ذکر گذر چکا ہے جنہوں نے حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کے دعویٰ کا مذاق اڑاتے ہوئے طاعون کے متعلق تعلی کی تھی۔اب چند اور معاندین احمدیت کی فہرست بطور مثال پیش کی جاتی ہے:۔ا۔سب سے پہلے مولوی رسل با باباشندہ امر تسر ذکر کے لائق ہے جس نے میرے رد میں کتاب لکھی اور بہت سخت زبانی دکھائی۔۔۔۔آخر خدا کے وعدہ کے موافق طاعون سے ہلاک ہوا۔-۲- محمد بخش نام جو ڈپٹی انسپکٹر بٹالہ تھا عداوت اور ایذاء رسانی پر کمربستہ ہو اوہ بھی (حقیقۃ الوحی ،روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۱۲-۳۱۳) (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۳۶) طاعون سے ہلاک ہوا۔- چراغدین نام ساکن جموں اٹھا جو رسول ہونے کا دعوی کر تا تھا جس نے میر انام دجال رکھا اور کہتا تھا حضرت نے عصا دیا ہے تا میں عیسی کے عصا سے اس دجال کو 89