حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 86 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 86

حوادث طبیعی یا عذاب الہی میں داخل ہونے کا راستہ تھا۔واقعاتی شہادت کی مشعل ہاتھ میں لئے ہوئے جب ہم مخالف سمتوں میں چلنے والی ان دو یکطرفہ راہوں پر نظر ڈالتے ہیں تو احمدیت سے نکل بھاگنے والی راہ کو سنسان اور ویران پاتے ہیں لیکن احمدیت میں داخل ہونے والی رہ پر خلائق کا ایسا ہجوم دیکھتے ہیں کہ کھوے سے کھوا چھلتا ہے۔جوق در جوق لوگ احمدیت میں داخل ہو رہے ہیں اور ایسے علاقوں میں بھی بکثرت نئی جماعتیں پید اہورہی ہیں جہاں مخالفت کی شدت کے باعث اس سے قبل سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔طاعون کا ڈنڈا دنیا کی مخالفتوں کے مقابل پر زیادہ سخت ثابت ہوا۔یہی ڈنڈا جیتا اور پیہم شدید ضربات کے ساتھ احمدیت کی چار دیواری سے باہر کے بسنے والوں پر برستارہا یہاں تک کہ ہزار ہا بلکہ لاکھوں انسانوں نے عافیت اور امان اسی میں دیکھی کے حصار احمدیت میں داخل ہو جائیں۔ہمارے اس دعوی کی صداقت کسی کاغذی شہادت کی محتاج نہیں۔پنجاب کے طاعون زدہ علاقوں میں وہ تمام دیہات اس امر کا زندہ ثبوت ہیں جہاں احمدیت کا پودا اذن الہی کے ماتحت طاعون کے ہاتھوں لگایا گیا۔اسی طرح وہ تمام احمدی جماعتیں اس دعوی کی صداقت پر مزید گواہی دے رہی ہیں جو طاعون سے پہلے قائم ہو چکی تھیں لیکن طاعون کے نتیجہ میں کم ہونے کی بجائے اور بھی زیادہ نشو و نما پانے لگیں۔پس کیا یہ تعجب کی بات نہیں اور کیا اسے حادثہ طبعی قرار دینا کسی بھی منطق کی رو سے درست ہو گا۔سیاہ موت کا یہ ہاتھ ہر دوسری سر زمین پر تو موت کے بیج بکھیر تار ہے لیکن احمدیت کی سرزمین میں داخل ہو تو زندگی کے پودے لگانے لگے۔یہ صر صر جب دوسرے چمنستانوں پر چلے تو انہیں اجاڑنے اور ویران کرنے لگے لیکن جب صحن احمدیت میں داخل ہو تو ایک زندگی بخش باد بہار میں تبدیل ہو جائے جس سے چمن کا بوٹا بوٹا پتہ پتہ راضی ہو جائے۔نئے شگوفے پھوٹنے لگیں ، نئی کونپلیں نمودار ہونے لگیں، نئے پھول کھلنے لگیں نئے پھل آنے لگیں، روش روش پر زندگی انگڑائیاں لے اور سر سبزی اور شادابی نچھاور ہو اور زبان حال سے طیور چمن مسیحائے زمان کے یہ نغمات الاپنے لگیں۔بہار آئی ہے اس وقت خزاں میں لگے ہیں پھول میرے بوستاں میں 86