حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 73 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 73

حوادث طبعی یا عذاب الہی کہہ کر اس سے صرف نظر نہیں کر سکتا کہ کسی ہولناک بیماری کے بارہ میں کوئی شخص یہ پیشگوئی کرے کہ وہ اس کے شہر میں معمولی درجہ کا اثر تو کر سکتی ہے اس سے زیادہ کی اسے اجازت نہ ہو گی اور جہاں تک اس کے گھر کی چار دیواری کا تعلق اس کے اندر رہنے والا ہر متنفس خد اتعالیٰ کی حفاظت میں رہے گا اور یہ بیماری اسے ہلاک کرنے پر قدرت نہ پاسکے گی۔پھر جیسا کہ اس نے پیشگوئی کی ہو بعینہ اسی طرح ہو جائے یہ امر یقیناً اتفاق کی عملداری سے ماوریٰ ہے اور ہر سلیم فطرت انسان کو مزید فکر اور جستجو پر مجبور کر دیتا ہے۔قادیان کی بستی میں طاعون کا داخل ہونا اور اکا دکا لوگوں کو اچک لے جانا ایک ایسا موضوع ہے جو بعض مثالوں کے بغیر آج کے قاری پر پوری طرح روشن نہیں ہو سکتا کن کن لوگوں کو اس نے پکڑا اور کن کن لوگوں کو اس نے چھوڑ دیا، کس کس پر ہاتھ ڈالا اور کس کس پر سے ہاتھ اٹھالیا۔کہاں اسے کھل کھیلنے کا موقعہ اور کہاں دم مارنے کی مجال نہ تھی۔قادیان کی تاریخ کا یہ باب حیرت انگیز ہے اور صرف اس ایک باب کا مطالعہ ہی حوادث طبعی اور عذاب الہی میں تمیز کر دکھانے کے لئے کافی ہے۔بیج ناتھ کا ذکر کر چکا ہوں کہ کس طرح اس کے گھر اور دار مسیح کے درمیان صرف ایک دیوار حائل تھی۔یہ دیوار کچی تھی اور ان کمروں کے فرش بھی کچے تھے جو ایک دوسرے کے ساتھ ملحق تھے۔چوہوں کے توسط سے طاعون کے کیڑوں کا ایک گھر سے دوسرے گھر میں منتقل ہونا عین قرین قیاس تھا لیکن ایسانہ ہونا تھانہ ہوا اور دار مسیح میں بسنے والا انسان تو کجا چوہا بھی طاعون کی مرض سے ہلاک نہیں ہوا۔یہ کوئی ایک دو ماہ یا سال دو سال کا قصہ نہیں تھا۔۱۸۹۸ء سے لے کر ۱۹۰۷ء تک مسلسل نو سال صوبہ پنجاب طاعون کی آفت میں مبتلا رہا لیکن اس چار دیواری میں ایک بھی طاعونی موت نہ ہوئی۔مذہبی دنیا میں چونکہ آپ کا یہ دعویٰ خوب شہرت پا چکا تھا کہ اللہ تعالیٰ قادیان کو عموماً اور آپ کے گھر کو خصوصاً طاعونی موت سے پاک رکھے گا، اس لئے تمام معاندین احمدیت کی نظر اس تمنا کے ساتھ قادیان پر لگی ہوئی تھی کہ کب وہ دن آئے کہ مرزا صاحب کے گھر بھی کوئی طاعونی موت واقع ہو جائے لیکن خدا نے وہ دن کسی کو نہ دکھایا۔ہاں بہت سے دشمنان 73