حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 16
حوادث طبعی یا عذاب الہی صبح ایسے وقت میں آئی کہ صرف ان کے گھر ہی نظر آتے تھے (سب قوم ریت میں دب گئی) اسی طرح ہم مجرم قوم کو سزا دیتے ہیں۔(۵) ایسے پے در پے سیلابوں کا آنا جو کسی خطہ زمین کی ہیئت ہی بدل ڈالیں اور زرخیز طاقتور زمینوں کو بنجر اور بیکار زمینوں میں تبدیل کر دیں۔جہاں بد ذائقہ جنگلی پھلوں، جھاؤ جیسی جڑی بوٹیوں اور جنگلی بیریوں کے سوا اور کچھ نہ اگ سکے۔فَأَعْرَضُوا فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ سَيْلَ الْعَرِمِ وَبَدَّلْنَهُمْ بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ ذَوَاقَ أُكُلٍ خَمْطٍ وَأَثْلٍ وَشَيْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِيلٍ (سورۃ سبا: ۱۷) ترجمہ: پھر بھی انہوں نے حق سے پیٹھ پھیر لی تب ہم نے (ان کو حق پانے سے محروم قرار دیکر ان پر ایسا عذاب بھیج دیا جو ہر چیز کو تباہ کرتا جاتا تھا اور ہم نے ان کے دو اعلیٰ درجہ کے باغوں کی جگہ ان کو دو ایسے باغ دیئے جن کے پھل بد مزہ تھے اور جن میں جھاؤ پایا جاتا تھایا کچھ تھوڑی سی بیریاں تھیں۔(۶) زلازل کا آنا جن کے نتیجہ میں زمین تہہ و بالا ہو جائے اور انسانی آبادیاں دھنس جائیں۔فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوْهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْبِهِمْ فَسَوْهَا۔(سورة الش: ۱۵) ترجمہ: لیکن انہوں نے نبی کی بات نہ مانی بلکہ اس کو جھٹلایا اور وہ اونٹنی جس سے بچتے رہنے کا انہیں حکم دیا گیا تھا۔انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں جس کی وجہ سے اللہ نے ان کو خاک میں ملانے کا فیصلہ کر دیا اور ایسی تدبیریں کیں کہ ایسا ہی ہو گیا۔(۷) ایسی طویل خشک سالی جس سے زمین کا پانی بھی سوکھ جائے اور اتنا گہر ا چلا جائے کہ اس کا نکالنا انسانی مقدرت سے بڑھ جائے۔جیسے فرمایا: قُلْ أَرَيْتُمْرانُ أَصْبَحَ مَاؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ يَأْتِيَكُمْ بِمَاءٍ مَّعِينٍ - (سورۃ الملک : ۳۱) ترجمہ : تو یہ بھی کہہ دے کہ مجھے بتاؤ تو سہی کہ اگر تمہارا پانی زمین کی گہرائی میں 16