حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 71 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 71

حوادث طبعی یا عذاب الہی قادیان کے چاروں طرف دو دو میل فاصلے پر طاعون کا زور ہو رہا ہے مگر قادیان طاعون سے پاک ہے بلکہ آج تک جو شخص طاعون زدہ باہر سے قادیان میں آیا وہ بھی اچھا ہو گیا۔کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور ثبوت ہو گا؟ جو باتیں آج سے چار برس پہلے کہی گئی تھیں وہ پوری ہو گئیں بلکہ طاعون کی خبر آج سے بائیس برس پہلے براہین احمدیہ میں دی گئی ہے اور یہ علم بجز خدا کے کسی اور کی طاقت میں نہیں۔وافع البلاء، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۲۶) تیسری شق۔الدار کی حفاظت ہر چند کہ یہ بہت عجیب دعویٰ تھا کہ قادیان کی بستی کے ساتھ استثنائی سلوک کیا جائے گا اور دوسرے شہروں اور دیہات کے مقابل پر اسے اس حد تک محفوظ رکھا جائے گا کہ ایک نمایاں امتیاز کی صورت پیدا ہو۔ہر چند کہ بار بار چیلنج دینے کے باوجود کسی دوسرے شخص کو اس قسم کے دعویٰ کی جرات نہ ہوئی۔تاہم اس حقیقت سے بھی انکار نہیں ہو سکتا کہ ایک شکی مزاج انسان کے لیے محل اعتراض ابھی باقی ہے۔سوچنے والا یہ سوچ سکتا ہے اور وہم کرنے والا اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ ایک امکان کا سہارا لے کر ایسی پیشگوئی کر دی گئی اور ساتھ ہی اعتراض سے بچنے کے لیے یہ راہ بھی تجویز کر دی گئی کہ اگر طاعون پڑی بھی تو زیادہ شدت کی طاعون کی نہیں پڑے گی اور دوسرے شہروں نسبت امتیاز کی صورت پیدا ہو جائے گی۔پس استثنا نے پیش گوئی کی امتیازی حیثیت پر ایک ابہام اور تلبیس کا پردہ ڈال دیا ہے۔اس وہم اور اعتراض کا جواب خود پیش گوئی ہی کی اس تیسری شق میں موجود ہے جس پر ہم اب قلم اٹھا ر ہے ہیں۔اگر چہ قادیان کی بستی کے متعلق پیشگوئی میں کلی حفاظت کا وعدہ نہیں تھا لیکن قادیان کے ایک حصہ کے متعلق جو اس قصبہ کی گنجان آبادی کے وسط میں واقع تھا ایسا وعدہ ضرور موجود تھا اور بڑی وضاحت اور تحدی کے ساتھ یہ فرمایا گیا تھا کہ انّی اُحافظ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ۔یعنی اللہ تعالیٰ یہ وعدہ کرتا ہے کہ میں ہر اس وجود کی اس وباء سے حفاظت کروں گا جو تیرے گھر کے اندر رہتا ہے۔پیشگوئی کے اس حصہ پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو قادیان میں طاعون کے معمولی طور پر 71