حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 58 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 58

حوادث طبعی یا عذاب الہی کے مختلف مقاموں میں سیاہ رنگ کے پودے لگائے گئے ہیں اور وہ طاعون کے پودے ہیں اور میں نے اطلاع دی تھی کہ تو بہ اور استغفار سے وہ پودے دور ہو سکتے ہیں۔مگر بجائے تو بہ اور استغفار کے وہ اشتہار بڑی ہنسی اور ٹھٹھے سے پڑھا گیا اب میں دیکھتا ہوں کہ وہ پیشگوئی ان دنوں میں پوری ہو رہی ہے خدا ملک کو اس آفت سے بچاوے۔اگر خدانخواستہ اس کی ترقی ہوئی تو وہ ایک ایسی بلا ہے جس کے تصور سے بدن کانپتا ہے۔سواے عزیز و! اسی غرض سے پھر یہ اشتہار شائع کرتاہوں کہ سنبھل جاؤ اور خدا سے ڈرو اور ایک تبدیلی دکھلاؤ تا خدا تم پر رحم کرے اور وہ بلا جو بہت نزد یک آگئی ہے خدا اس کو نابود کرے۔“ ۲۔”اے غافلو! یہ جنسی اور ٹھٹھے کا وقت نہیں ہے یہ وہ بلا ہے جو آسمان سے آتی اور صرف آسمان کے خدا کے حکم سے دور ہوتی ہے۔۔۔۔معمولی درجہ کی طاعون یا کسی اور وبا کا آنا ایک معمولی بات ہے لیکن جب یہ بلا ایک کھا جانے والی آگ کی طرح کسی شہر میں اپنا منہ کھولے تو یقین کرو کہ وہ شہر کامل راستبازوں کے وجود سے خالی ہے۔تب اس شہر سے جلد نکلو یا کامل تو بہ اختیار کرو۔ایسے شہر سے نکلنا طبی قواعد کی رو سے مفید ہے ایسا ہی روحانی قواعد کی رو سے بھی۔۔۔۔“۔اللہ جل شانہ اپنے رسول کو قرآن شریف میں فرماتا ہے مَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَ أَنْتَ فِيهِمْ۔یعنی خدا ایسا نہیں ہے کہ وہ و باوغیرہ سے ان لوگوں کو ہلاک کرے جن کے شہر میں تو رہتا ہو۔پس چونکہ وہ نبی علیہ السلام کامل راستباز تھا اس لیے لاکھوں کی جانوں کا وہ شفیع ہو گیا۔یہی وجہ ہے کہ مکہ جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس میں تشریف رکھتے رہے امن کی جگہ رہا اور پھر جب مدینہ تشریف لائے تو مدینہ کا اس وقت نام یثرب تھا جس کے معنے ہیں ہلاک کرنے والا۔یعنی اس میں ہمیشہ سخت و با پڑا کرتی تھی۔آپ نے داخل ہوتے ہی فرمایا کہ اب کے بعد اس کا نام یثرب نہ ہو گا بلکہ اس کا نام مدینہ ہو گا یعنی تمدن اور 58