حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 35
حوادث طبعی یا عذاب الہی ترجمہ : میں تیرے ماننے والوں کو تیرے منکرین (یہود) پر قیامت تک غالب رکھوں گا۔یہ پیشگوئی حضرت عیسی علیہ السلام کے وصال سے تین سو سال کے اندر نہایت شاندار رنگ میں پوری ہو گئی اور آج تک قرآن کریم کی صداقت پر ایک زندہ نشان بنی ہوئی ہے۔عجیب بات یہ ہے کہ اناجیل یا عہد نامہ جدید میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔حالانکہ یہ ایک ایسی اہم اور شاندار پیشگوئی تھی کہ بائبل کو اول طور پر اس کا ذکر کرنا چاہئے تھا تاہم بائبل خاموش رہی اور قرآن کریم نے اس کا ذکر فرما دیا اور اس وقت سے لے کر آج تک دنیا کی تاریخ قرآن کریم کے اس بیان کی تصدیق کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔یہاں ضمناً یہ بھی معلوم ہو گیا کہ عذاب الہی کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ کسی قوم کو ذلت اور مغلوبیت کی حالت میں مَغْضُوبِ عَلَيْهِذ بنا کر تا قیامت زندہ رکھا جائے۔پھر ایک ضمنی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عہد حاضر میں ایک مسلمان علاقہ میں یہود کو غلبہ کیوں نصیب ہوا اور کیوں عالم اسلام کے عین وسط میں ان کو ایک ظالمانہ حکومت قائم کرنے کی توفیق ملی ؟ اس سوال پر تفصیلی بحث کا تو یہ موقعہ نہیں البتہ اشارہ یہ کہنا کافی ہو گا کہ قرآن کریم میں پہلے ہی سے اس عارضی غلبہ کی بھی پیشگوئی موجود ہے اور اس کا ایک مقصد یہ بھی معلوم ہو تا ہے کہ یہود پر اور اہل دنیا پر یہ بات روشن کر دی جائے کہ اس قوم کو قیامت تک مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ بنانا اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ظلم اور تعدی کا فیصلہ نہیں تھا بلکہ یہ قوم اپنی سرشت کے لحاظ سے اس حد تک بگڑ چکی ہے اور ان کے دل ایسے سخت ہو چکے ہیں کہ اگر انہیں کبھی غلبہ نصیب ہو تو انتہائی ظلم اور سفاکی پر اتر آئیں گے۔لہذا یہ اس قابل نہیں رہے کہ انہیں کبھی دنیا کی سرداری بخشی جائے۔اب ہم اصل سوال کی طرف واپس آتے ہیں۔کہ آنحضرت صلی للی یم کے مخالفین پر کیوں ایسا عذاب الہی نازل نہیں ہوا جو ان کو کلیہ آنحضرت صلی علی ایم کے دین کے مقابل پر مغلوب کر دیتا 35