حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page iii of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page iii

پیش لفظ اللہ تعالیٰ ہر زمانہ میں اپنی قدرت کی جلوہ نمائی مختلف رنگوں میں دکھاتا ہے تا مخلوق خدا ان نشانات سے سبق حاصل کرے۔ایسے نشانات جہاں مومنین کے از یاد ایمان کا موجب ہوتے ہیں وہاں غیروں کے لئے اندار کا پہلو اپنے اندر رکھتے ہیں تاوہ خدا اور اس کے مامور کو پہچانیں۔حضرت مرزا طاہر احمد خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے منصب خلافت پر ہونے سے قبل حوادث طبعی یا عذاب الہی کے عنوان سے مضمون تحریر فرمایا تھا جو رسالہ الفرقان متمكن میں بالا قساط طبع ہوا اور بعد ازاں ۱۹۹۴ء میں اس کی کتابی صورت میں طباعت بھی کی گئی۔حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس مضمون میں یہ امر کھول کر ثابت فرمایا ہے کہ ہر حادثہ عذاب الہی سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔آپ نے قرآن و حدیث اور تاریخ انبیاء کے حوالہ سے ثابت کیا ہے کہ حوادث طبعی کو کن حالات و واقعات کے تحت عذاب الہی قرار دیا جا سکتا ہے۔اسی طرح اس مضمون میں قرآن کریم کی روشنی میں عذاب الہی کی اقسام اور ایسے عذاب الہی کو عام حوادث سے ممتاز کرنے والی سات امتیازی علامات پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔نیز طاعون کی وباجو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی کا ایک بین نشان ہے اس پر بھی تفصیلاً روشنی ڈالی گئی ہے۔وقتاً فوقتاً جو وبائیں پھیلتی ہیں ، خواہ وہ طاعون کی صورت میں ہوں یا ہیضہ کی صورت میں ہوں یا کورونا وائرس کی صورت میں ہوں یا جو طوفان وغیرہ ظاہر ہوتے رہتے ہیں، انہیں اس مضمون کی روشنی میں پر کھا جاسکتا ہے کہ وہ عذاب الہی ہیں یا حوادث طبعی۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہر عذاب سے محفوظ رکھے۔آمین منیر الدین شمس ایڈیشنل وکیل التصنيف اپریل ۲۰۲۱ء