حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 23
حوادث طبعی یا عذاب الہی مضمون پر ہم آئندہ روشنی ڈالیں گے۔انشاء اللہ۔اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق کے ساتھ یہ سوال بھی زیر بحث لائیں گے کہ جب کوئی قوم عذاب الہی میں مبتلا کی جائے یا کسی قوم پر عذاب الہی نازل ہونے کی خبر دی جائے تو مومنین کی جماعت پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور ان کا کیا رد عمل ہونا چاہئے۔مضمون کا یہ حصہ موجودہ زمانہ میں جماعت احمدیہ کی صحیح تربیت کے لحاظ سے بہت اہم ہے اور اس بارہ میں لاعلمی کے نتیجہ میں اس بات کا احتمال ہے کہ بعض احمدی ایسا رد عمل دکھائیں جو سنت انبیاء اور مومنوں کی شان کے خلاف ہو۔اللہ تعالیٰ اس سے ہمیں محفوظ رکھے۔آمین۔عذاب الہی کی پہلی امتیازی علامت عذاب الہی کو عام حوادث سے ممتاز کرنے والی علامات میں سے ایک اہم علامت یہ ہے کہ عذاب کے واقع ہونے سے قبل ہی اس کی خبر دے دی جاتی ہے اور صرف خبر ہی نہیں بسا اوقات اس کی نوعیت بھی تفصیل سے بیان کر دی جاتی ہے۔اس کی مثال حضرت نوح کے زمانہ میں بڑی واضح شکل میں ملتی ہے۔آپ نے پہلے سے قوم کو متنبہ کر دیا کہ تمہارے اعمال کی خرابی کے نتیجہ میں نیز میرے مسلسل انکار کی وجہ سے تم ہلاک کر دیئے جاؤ گے۔اس تنبیہ کے ساتھ ہی آپ نے ذریعہ ہلاکت سے بھی ان کو آگاہ کر دیا اور بتایا کہ تمہاری ہلاکت کا ذریعہ پانی کو بنایا جائے گا۔جو ایک ایسے بے نظیر سیلاب کی صورت میں آئے گا۔جس سے اس علاقہ کی کوئی چیز خواہ انسان ہو یا حیوان، بچ نہیں سکے گی۔یہ خبر دینے کے ساتھ ہی حضرت نوح اس کشتی کی تعمیر میں مصروف ہو گئے جو اللہ تعالیٰ کے اذن کے مطابق اس عذاب سے مومنوں کو بچانے کے لئے بنائی جارہی تھی۔منکرین پاس سے گزرتے ، ہنستے اور تمسخر اڑاتے۔حضرت نوح علیہ السلام اور آپ کے ساتھیوں کو طرح طرح کے طعنوں کا نشانہ بناتے لیکن کوئی بھی یہ تسلیم کرنے پر آمادہ نہ ہوا کہ آسمان اس کثرت کے ساتھ پانی برسا سکتا ہے کہ دنیا کی کوئی پناہ گاہ اس کی زد سے انسان کو بچانہ سکے ، لیکن آخر وہ دن آگیا جب کہ قرآن کریم کے بیان کے مطابق فَفَتَحْنَا أَبْوَابَ السَّمَاءِ بِمَاءٍ 23