حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 14 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 14

حوادث طبیعی یا عذاب الہی پانی جب رحمت بنا تو ایک دودھ پیتے بچے حضرت موسی کو ایک کمزور لکڑی کے صندوق میں اپنی لہروں پر بہائے ہوئے خطرے کی جگہ سے امن کے مقام کی طرف لے گیا اور ہلاکت کی بجائے نجات کا موجب بنا۔اب دیکھ لیجئے کہ بظاہر دونوں واقعات طبعی محرکات کا نتیجہ تھے لیکن وہ بچہ جس نے بعد ازاں بڑے ہو کر نبوت کا دعویٰ کرنا تھا اور خدا کے عظیم الشان پیغمبر کے طور پر دنیا میں ظاہر ہونا تھا۔اس کو تو انتہائی کمزوری، ناطاقتی اور کم مائیگی کے باوجود پانی ہلاک کرنے کی قدرت نہیں پاسکتا لیکن اس کے عظیم الشان اور دنیاوی لحاظ سے انتہائی طاقتور دشمن کو اپنے قومی وسائل کے باوجود خس و خاشاک کی طرح بہا لے جاتا ہے۔اہل بصیرت کے لیے اس میں فکر و تدبر کے سامان موجود ہیں۔عذاب الہی کی قسمیں جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے قرآن کریم کی رو سے تمام مادی تغییرات کو مشیت الہی کے ماتحت عذاب کا ذریعہ بھی بنایا جاسکتا ہے اور انعام کا بھی۔جہاں تک عذاب کا تعلق ہے۔عذاب کی حسب ذیل صورتوں کا قرآن کریم میں واضح ذکر موجود ہے:۔(۱) مسلسل شدید بارش اور زمین کے پانی کی سطح کا بلند ہونا جس کے نتیجہ میں ایسا ہولناک سیلاب ظاہر ہو کہ علاقہ کی تمام آبادی غرق ہو جائے۔فَدَعَا رَبَّةَ أَنِّى مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرُ - فَفَتَحْنَا ابْوَابَ السَّمَاءِ بِمَاءٍ مُّنْهَـ وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُونًا فَالْتَقَى الْمَاءِ عَلَى أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ۔(سورۃ القمر :۱۱-۱۳) ترجمہ : آخر اس (نوح) نے اپنے رب سے دعا کی اور کہا مجھے دشمن نے مغلوب کر لیا ہے پس تو میر ابدلہ لے۔جس پر ہم نے بادل کے دروازے ایک جوش سے بہنے والے پانی کے ذریعے کھول دیے اور زمین میں بھی ہم نے چشمے پھوڑ دیئے۔پس (آسمان کا ) پانی (زمین کے پانی کے ساتھ) ایک ایسی بات کے لیے اکٹھا ہو گیا جس کا فیصلہ ہو چکا تھا۔14