حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 8
حوادث طبیعی یا عذاب الہی غلط اندازوں یا کم علمی یالا علمی کی وجہ سے اس جوار بھاٹا کی نذر ہو گئے۔لیکن نہ تو قرآن مجید نے ،نہ کسی اور مذہبی صحیفہ نے اس جوار بھاٹا کے نتیجہ میں مرنے والوں کو عذاب الہی کا مورد قرار دیا۔پس قانون قدرت بلاشبہ اپنی روش پر جاری و ساری ہے اور اس کے نتیجہ میں پید اہونے والے ہر مہلک تغییر کو نہ عذاب الہی قرار دیا جا سکتا ہے نہ اسلام اس کا دعویدار ہے۔ہاں بعض صورتوں میں جن کا قدرے تفصیلی ذکر آگے چل کر کیا جائے گا یہی مظاہر قدرت مذہبی اصطلاح میں عذاب الہی کا نام پالیتے ہیں اور اپنے ساتھ ایسے شواہد رکھتے ہیں اور ایسے قوی دلائل ان کی تائید میں کھڑے ہوتے ہیں کہ ایک مادہ پرست بھی اگر انصاف سے کام لے تو خود اپنے عقلی معیار کے مطابق بھی یہ ماننے پر مجبور ہو جائے گا کہ اس معین واقعہ کے وقت جسے مذہب عذاب قرار دیتا ہے ایسے غیر معمولی عوامل ضرور موجود تھے جو بظاہر روز مرہ کے واقعہ کو ایک امتیازی اور استثنائی حیثیت دیتے ہیں۔ابھی ہم نے فرعون کے غرق ہونے کا ذکر کیا ہے۔اسی مثال پر اب ذرا مزید غور فرمائیں۔میر امدعا خوب واضح ہو جائے گا۔ایک خاص دلچسپی کی بات جو قرآن کریم کے بیان سے معلوم ہوتی ہے اور قرآن کریم کے سوا کہیں نہیں ملتی وہ یہ ہے کہ غرق ہوتے وقت فرعون نے خدا تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ میں تجھ پر ایمان لاتا ہوں تو مجھے بچالے ! تو اللہ تعالیٰ نے جواباً فرمایا :- فَالْيَوْمَ نُنَجِيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوتَ لِمَنْ خَلْفَكَ آيَةً --- ( سورۃ یونس: ۹۳) ترجمہ : پس اب ہم تیرے بدن ( کے بقاء) کے ذریعہ سے تجھے (ایک جزوی) نجات دیتے ہیں تاکہ جو لوگ تیرے پیچھے آنے والے ہیں ان کے لیے تو ایک نشان ہو۔اس بیان کی یہ حیثیت تو صرف دعویٰ کی ہے جو ایک غرق ہوتے ہوئے انسان اور خدا کے درمیان ایک مکالمہ کو پیش کر رہا ہے بظاہر اس کی چھان بین اور صداقت کے جائزہ لینے کا کوئی ذریعہ نہ تو آج انسان کے پاس ہے نہ اس وقت کے انسان کے پاس تھا کیونکہ ایک مرتے ہوئے انسان اور خدا کے درمیان جو باتیں ہوئیں اُن کو ان دونوں کے سوا اور کون جان سکتا ہے ؟