حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 88
حوادث طبعی یا عذاب الہی اور فرقوں کی مدد کیوں نہ کی اور کیوں عوام و خواص کی زود اعتقادی صرف احمدیت کی جانب ہی مائل رہی ؟ احمدیت اس دعوی میں تنہا تو نہ تھی کہ صرف وہی امن کا نجات کا ذریعہ ہے جیسا کہ گذر چکا ہے ہر مذہب اور فرقہ نے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور گھبرائی ہوئی ، خوف زدہ اور بد کی ہوئی حواس باختہ انسانیت کو امن اور حفاظت کا وعدہ دے کر اپنی طرف بلایا۔ان کی طرف جانے والی راہیں بظاہر زیادہ کشادہ تھیں اور کم بے خطر۔ان راہوں میں ابتلاء اور مخالفتوں اور شدید دشمنیوں کے ویسے کانٹے نہ تھے جیسے احمدیت کی راہ میں بچھے ہوئے تھے۔قدرت کا یہ اٹل قانون ہے کہ متحرک چیزیں کم تر مدافعت اور مزاحمت کی راہیں اختیار کیا کرتی ہیں۔پانی ڈھلوان ہی کی طرف بہتا ہے۔دوسرے فرقوں یا مذاہب کو قبول کرنا احمدیت کی نسبت کہیں زیادہ آسان تھا اور اپنے پہلے مذہب پر ہی جسے رہنا اس سے بھی آسان تر پھر کیوں ایسا نہ ہوا کہ اور کیوں زود اعتقادی کا پانی ان طبعی آسان تر ڈھلوانوں کو چھوڑ کر احمدیت کی پر مشقت اور صبر آزما چڑھائی کی طرف بہنے لگا۔لازماً کوئی مختلف اور قوی تر محرک اس سمت میں کام کر رہا تھا جو اس کے سوا نہیں ہو سکتا کہ جس شخص کو بھی قریب سے احمدیت کے حالات دیکھنے کا موقع ملا اس نے یہ فرق مشاہدہ کیا کہ طاعون احمدیوں کے ساتھ نمایاں امتیازی سلوک کرتی ہے اور دوسروں میں اگر ۱۰ فیصدی اموات ہیں تو احمدی میں ۱-۱۰ فیصدی بھی نظر نہیں تھیں۔اگر ہمارے طرز استدلال کو قبول کرنے پر کوئی طالب حق ابھی تک متر در ہو اور مزید اور نقلی ثبوت کا مطالبہ کرے تو اس کے دل کی تسلی کے لئے ہم راہ تجویز کرتے ہیں کہ سارے مشرقی یا مغربی پنجاب میں کسی ایک بھی ایسی ہندو، عیسائی، شیعہ، سنی، چکڑالوی ، دیو بندی، اہل حدیث یا بریلوی بستی کی تلاش کر کے دکھائے جو طاعون کے زمانہ میں اپنا آبائی مذہب یا فرقہ ترک کر کے محض اس لئے ہندو، عیسائی، شیعہ، سنی، چکڑالوی ، دیوبندی، اہل حدیث یا بریلوی ہو گئی ہو کہ اسے اپنے پہلے مذہب یا فرقہ کے مقابلہ پر اسے نئے مذہب یا فرقہ میں بلائے طاعون سے بچنے کے زیادہ امکانات نظر آتے تھے۔اگر کوئی ایسی بستی تلاش نہ کر سکے اور یقینا نہیں کر سکے گا تو ہمارے پاس آئے ہم اسے سینکڑوں ایسی جماعتیں دکھائیں جو طاعون کے زمانہ میں طاعون کے خوف سے 88