حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 82
ہو حوادث طبیعی یا عذاب الہی فرقہ وہابیہ کے مذہب کے رو سے تو بغیر فاتحہ خوانی کے نماز درست ہی نہیں۔پس اس صورت میں ان کے ساتھ حنفیوں کی نماز کیونکر ہو سکتی ہے۔کیا باہم فساد نہیں ہو گا؟ ماسوا اس کے اس اشتہار کے لکھنے والے نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ ہندو اس مرض کے دفعیہ کے لئے کیا کریں۔کیا ان کو اجازت ہے یا نہیں کہ وہ بھی اس وقت اپنے بتوں سے مدد مانگیں اور عیسائی کس طریق کو اختیار کریں اور جو فرقے حضرت حسین یا علی رضی اللہ عنہ کو قاضی الحاجات سمجھتے ہیں اور محرم میں تعزیوں پر ہزاروں درخواستیں مرادوں کے لئے گزارا کرتے ہیں اور یا جو مسلمان سید عبد القادر جیلانی کی پوجا کرتے ہیں یا جو شاہ مدار یا سخی سرور کو پوجتے ہیں وہ کیا کریں؟ اور کیا اب یہ تمام فرقے دعائیں نہیں کرتے ؟ بلکہ ہر ایک فرقہ خوف زدہ ہو کر اپنے اپنے معبود کو پکار رہا ہے۔۔۔۔۔یہ تو مسلمانوں کے خیالات ہیں جو طاعون کو دور کرنے کے لئے سوچے گئے ہیں اور عیسائیوں کے خیالات کے لئے ابھی ایک اشتہار پادری وائٹ بریخت صاحب اور ان کی انجمن کی طرف سے نکلا ہے اور وہ یہ کہ طاعون کے دور کرنے کے لئے اور کوئی تدبیر کافی نہیں بجز اس کے کہ حضرت مسیح کو خدامان لیں اور ان کے کفارہ پر ایمان لے آئیں۔اور ہندوؤں میں سے جو آر یہ لوگ پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ یہ بلائے طاعون وید کے ترک کرنے کی وجہ سے ہے تمام فرقوں کو چاہیے کہ ویدوں کی سبت و دیا پر ایمان لاویں اور تمام نبیوں کو نعوذ باللہ مفتری قرار دیں تب اس تدبیر سے طاعون دور ہو جائے گی۔اور ہندوؤں میں جو سناتن دھرم فرقہ ہے اس فرقہ میں دفع طاعون کے بارہ میں جو رائے ظاہر کی گئی ہے اگر ہم پر چہ اخبار عام نہ پڑھتے تو شاید اس عجیب رائے سے بے خبر رہتے اور وہ رائے یہ ہے کہ یہ بلائے طاعون گائے کی وجہ سے آئی ہے۔اگر گور نمنٹ یہ قانون پاس کر دے کہ اس ملک میں گائے ہر گز 82