حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 72
حوادث طبیعی یا عذاب الہی داخل ہونے والا پہلو پیشگوئی کی شوکت کو کم کرنے کی بجائے اور بھی بڑھا دیتا ہے۔اگر قادیان میں طاعون کلیۂ داخل ہی نہ ہوتی اور نیکوں کی طرح قادیان کے تمام شریر لوگ بھی اس سے پوری طرح محفوظ رہتے تو ایک شکی مزاج انسان کے لیے شک کی ایک اور صورت پیدا ہو جاتی ہے کہ کیوں نہ یہ سمجھ لیا جائے کہ اتفاق سے طاعون کے جراثیم اس بستی میں داخل ہی نہیں ہوئے۔اگر یہ کوئی الہی نشان ہو تا تو نیک اور بد میں کوئی تمیز ہونی چاہیے تھی۔قادیان کی بستی میں رہنے والے مرزا صاحب کے مخالفین کا بھی اس وبا سے صاف بچ جانا ظاہر کرتا ہے کہ کوئی خدائی ہاتھ نہیں بلکہ اتفاقی حادثہ اس میں کار فرما تھا۔پھر ایک وہمی انسان یہ بھی اعتراض کر سکتا تھا کہ مرزا صاحب کے گھر کا یعنی اس میں رہنے والے ہر وجود کا طاعون کی بیماری سے بچ رہنا تو صرف اس صورت میں امتیازی نشان بن سکتا تھا کہ اس شہر میں طاعون داخل ہوتی۔دائیں بائیں، آگے پیچھے قرب وجوار میں ہمسایوں کو پکڑتی لیکن آپ کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت اسے نہ ملتی تب ہم سمجھتے کہ ہاں کچھ بات ضرور ہے۔مندجہ بالا امکانی اعتراضات اور توہمات کو پیش نظر رکھتے ہوئے جب ہم پیشگوئی اور بعد ازاں رونما ہونے والے واقعات پر نظر ڈالتے ہیں تو عقل حیران رہ جاتی ہے اور غیر معمولی تصرف الہی کے سوا ان واقعات کی کوئی طبعی توجیہ پیش کرنے کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا۔پیشگوئی کا ہر جزء حیرت انگیز صفائی کے ساتھ پورا ہوا کہ انسانی طاقت کا کوئی دخل اس میں نظر نہیں آتا۔قادیان میں طاعون داخل ہوئی مگر نہایت معمولی طریق پر۔گویا اکا دکار دی کے ٹکڑے جتنی رہی۔گھروں، گلیوں اور بازاروں میں موت کا جھاڑو نہیں دیا۔حضرت مرزا صاحب کے چند مخالفین تو طاعون کی نظر ہو گئے لیکن کسی مرید کو طاعون نے کچھ نہ کہا طاعون گھر کی چار دیواری کو مس کر کے گزر گئی لیکن ”الدار “ میں داخل ہونے کی اجازت اسے نہ ملی۔بیج ناتھ ہندو جس کے گھر کی دیوار حضور علیہ السلام کی دیوار کے ساتھ ملی ہوئی تھی چند گھنٹے طاعون میں مبتلارہ کر گزر گیا لیکن حضرت اقدس علیہ السلام کا گھر اس کے اثر سے محفوظ رہا۔ایک منصف مزاج محقق ہر گز اس امر کو تخفیف کی نظر سے نہیں دیکھ سکتا اور محض اتفاق 72