حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 70 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 70

حوادث طبعی یا عذاب الہی طرف سے نہیں۔پس اس سے بڑھ کر اور کیا فیصلہ ہو گا۔اور میں بھی خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں مسیح موعود ہوں اور وہی ہوں جس کا نبیوں نے وعدہ دیا ہے اور میری نسبت اور میرے زمانے کی نسبت توریت اور انجیل اور قرآن شریف میں خبر موجود ہے کہ اس وقت آسمان پر خسوف و کسوف ہو گا اور زمین پر سخت طاعون پڑے گی۔اور میر ایہی نشان ہے کہ ہر ایک مخالف خواہ وہ امر وہہ میں رہتا ہے اور خواہ امرت سر میں اور خواہ دہلی میں اور خواہ کلکتہ میں اور خواہ لاہور میں اور خواہ گولڑہ میں اور خواہ بٹالہ میں اگر وہ قسم کھا کر کہے گا کہ اس کا فلاں مقام طاعون سے پاک رہے گا تو ضرور وہ مقام طاعون میں گرفتار ہو جائے گا کیونکہ اس نے خدا تعالیٰ کے مقابل پر گستاخی کی۔66 دافع البلاء، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۳۰-۲۳۸) کھلے کھلے اس چیلنج کے باوجود کسی کو توفیق نہ ملی کہ اپنی بستی کے بارہ میں یہ دعویٰ کر سکے کہ خدا تعالیٰ اسے طاعون کی غیر معمولی تباہی سے محفوظ رکھے گا۔پس تمام اہل مذاہب کی اس بارہ میں خاموشی بذات خود اس امر کا ایک بین ثبوت ہے کہ اس زمانہ میں طاعون جس شدت اور تیزی سے شہروں اور دیہات میں داخل ہو کر زندگی کی بیخ کنی کر رہی تھی اس کے دیکھتے ہوئے کسی فرد بشر کے لئے یہ ممکن نہ تھا کہ اپنی طرف سے اتنا بڑا اور محال دعوی کر دے کہ اس کے گاؤں کو اللہ تعالی طاعون کے غیر معمولی حملہ سے بچالے گا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے محض یہ دعویٰ ہی نہ کیا بلکہ عجیب تر بات یہ ہے کہ طاعون کی وبا نے حیرت انگیز سعادت مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے عمل سے آپ کے دعوی کی سچائی کو ثابت کر دیا۔چنانچہ عین ان دنوں جبکہ طاعون کی وبازوروں پر تھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اہل دنیا کو اس عجیب در عجیب نشان کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا:- ”اب دیکھو تین برس سے ثابت ہو رہا ہے کہ وہ دونوں پہلو پورے ہو گئے یعنی ایک طرف تمام پنجاب میں طاعون پھیل گئی اور دوسری طرف باوجود اس کے کہ 70