حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 69 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 69

حوادث طبعی یا عذاب الہی یعنی اگر وہ در حقیقت مجھے جھوٹا سمجھتے ہیں اور میرے الہامات کو انسان کا افتر اخیال کرتے ہیں نہ خدا کا کلام تو سہل طریق یہ ہے کہ جس طرح میں نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر کہا ہے کہ لَوْ لَا الْإِكْرَامُ لَهَلَكَ الْمَقَامُ وَوَإِنَّةً أَوَى امْرُ وَهَہ لکھ دیں۔مومنوں کی دعا تو خداسنتا ہے۔وہ شخص کیسا مومن ہے کہ ایسے شخص کی دعا تو اس کے مقابلے پر سنی جاتی ہے جس کا نام اس نے دجال اور بے ایمان اور مفتری رکھا ہے مگر اس کی اپنی دعا نہیں سنی جاتی۔۔۔۔۔اگر انہوں نے اپنے فرضی مسیح کی خاطر دعا قبول کر اکر خدا سے یہ بات منوالی کہ امروہہ میں طاعون نہیں پڑے گی تو اس صورت میں نہ صرف ان کو فتح ہو گی بلکہ تمام امروہہ پر ان کا ایسا احسان ہو گا کہ لوگ اس کا شکر نہیں کر سکیں گے۔اور مناسب ہے کہ ایسے مباہلہ کا مضمون اس اشتہار کے شائع ہونے سے پندرہ دن تک بذریعہ چھپے ہوئے اشتہار کے دنیا میں شائع کر دیں جس کا مضمون یہ ہو کہ یہ اشتہار مرزا غلام احمد کے مقابل پر شائع کرتاہوں جنہوں نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔اور میں جو مومن ہوں دعا کی قبولیت پر بھروسہ کر کے یا الہام پا کر یا خواب دیکھ کر یہ اشتہار دیتا ہوں کہ امروہہ ضرور بالضرور طاعون کی دست برد سے محفوظ رہے گا لیکن قادیان میں تباہی پڑے گی کیونکہ مفتری کے رہنے کی جگہ ہے۔اس اشتہار سے غالباً آئندہ جاڑے تک یہ فیصلہ ہو جائے گا یا حد دوسرے تیسرے جاڑے تک۔۔۔۔۔چونکہ مسیح موعود کی رہائش کے قریب تر پنجاب ہے اور مسیح موعود کی نظر کا پہلا محل پنجابی ہیں اس لیے اول یہ کارروائی پنجاب میں شروع ہوئی۔لیکن امروہہ بھی مسیح موعود کی محیط ہمت سے دور نہیں اس لیے اس مسیح کا کافرکش دم ضر ور امروہہ تک بھی پہنچے گا۔یہی ہماری طرف سے دعوی ہے۔اگر مولوی احمد حسن صاحب اس اشتہار کے شائع ہونے کے بعد جس کو وہ قسم کے ساتھ شائع کرے گا امروہہ کو طاعون سے بچا سکا اور کم از کم تین جاڑے امن سے گزر گئے تو میں خدا تعالیٰ کی 69