حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 68 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 68

حوادث طبعی یا عذاب الہی بنارس کی نسبت جو وید کے درس کا اصل مقام ہے ایک پیش گوئی کر دیں کہ ان کا پر میشر بنارس کو طاعون سے بچالے گا۔اور سناتن دھرم والوں کو چاہیے کہ کسی ایسے شہر کی نسبت جس میں گائیاں بہت ہوں مثلاً امر تسر کی نسبت پیشگوئی کر دیں کہ گئو کے طفیل اس میں طاعون نہیں آئے گی۔اگر اس قدر گئو اپنا معجزہ دکھا دے تو کچھ تعجب نہیں کہ اس معجزہ نما جانور کی گورنمنٹ جان بخشی کر دے۔اسی طرح عیسائیوں کو چاہئے کہ کلکتہ کی نسبت پیش گوئی کر دیں کہ اس میں طاعون نہیں پڑے گی کیونکہ بڑا بشپ برٹش انڈیا کا کلکتہ میں رہتا ہے۔اسی طرح میاں سشمس الدین اور ان کی انجمن حمایت اسلام کے ممبروں کو چاہیے کہ لاہور کی نسبت پیشگوئی کر دیں کہ وہ طاعون سے محفوظ رہے گا اور منشی الہی بخش اکو نٹنٹ جو الہام کا دعویٰ کرتے ہیں ان کے لیے بھی موقع ہے کہ اپنے الہام سے لاہور کی نسبت پیشگوئی کر کے انجمن حمایت اسلام کو مدد دیں۔اور مناسب ہے کہ عبد الجبار اور عبد الحق شہر امرتسر کی نسبت پیش گوئی کر دیں۔اور چونکہ فرقہ وہابیہ کی اصل جو دلی میں ہے اس لیے مناسب ہے کہ نذیر حسین اور محمد حسین دلی کی نسبت پیشگوئی کریں کہ وہ طاعون سے محفوظ رہے گی۔پس اس طرح سے گویا تمام پنجاب اس مہلک مرض سے محفوظ ہو جائے گا اور گورنمنٹ کو بھی مفت میں سبکدوشی ہو جائے گی۔اور اگر ان لوگوں نے ایسا نہ کیا تو پھر یہی سمجھا جائے گا کہ سچا خداوہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنار سول بھیجا۔۔۔۔۔۔۔اس جگہ مولوی احمد حسن امروہی کو ہمارے مقابلہ کے لئے خوب موقعہ مل گیا ہے۔ہم نے سنا ہے کہ وہ بھی دوسرے مولویوں کی طرح اپنے مشرکانہ عقیدہ کی حمایت میں کہ تاکسی طرح حضرت مسیح ابن مریم کو موت سے بچالیں اور دوبارہ اتار کر خاتم الانبیاء بنا دیں بڑی جانکاہی سے کوشش کر رہے ہیں۔۔۔۔۔اگر مولوی احمد حسن صاحب کسی طرح باز نہیں آتے تو اب وقت آگیا ہے کہ آسمانی فیصلہ سے ان کو پتہ لگ جائے۔68