حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 57 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 57

حوادث طبیعی یا عذاب الہی جاتے ہیں۔جھوٹ بہت بولتے ہیں اور کئی قسم کے خسیس اور مکر وہ حرکات ان سے سرزد ہوتے ہیں اور وحشیوں کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں۔نماز کا تو ذکر کیا کئی کئی دنوں تک منہ نہیں دھوتے اور کپڑے بھی صاف نہیں کرتے اور جو لوگ امیر اور رئیس اور نواب یا بڑے بڑے تاجر اور زمیندار اور ٹھیکیدار اور دولت مند ہیں وہ اکثر عیاشیوں میں مشغول ہیں اور شراب خوری اور زناکاری اور بد اخلاقی اور فضول خرچی ان کی عادت ہے اور صرف نام کے مسلمان ہیں اور دینی امور میں اور دین کی ہمدردی میں سخت لا پروا پائے جاتے ہیں۔اب چونکہ اس الہام سے جو ابھی میں نے لکھا ہے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تقدیر معلق ہے اور توبہ استغفار اور نیک عملوں اور ترک معصیت اور صدقات اور خیرات اور پاک تبدیلی سے دور ہو سکتی ہے۔لہذا اتمام بندگانِ خدا کو اطلاع دی جاتی ہے کہ سچے دل سے نیک چلنی اختیار کریں اور بھلائی میں مشغول ہوں اور ظلم اور بدکاری کے تمام طریقوں کو چھوڑ دیں۔“ ( مجموعہ اشتہارات حضرت مسیح موعود جلد سوم صفحہ نمبر ۳، ۶،۵) آپ کے اس اشتہار کی اشاعت کے تقریباً دو سال بعد تک طاعون کا کوئی غیر معمولی حملہ پنجاب پر نہیں ہوا۔چنانچہ بجائے استغفار کرنے اور گناہوں سے تو بہ کرنے کے کیا علما اور کیا عوام الناس سب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیش گوئی پر ہنسی اڑانی شروع کی اور تمسخر کے ساتھ اس کے تذکرے ہونے لگے۔لیکن افسوس ہے کہ جلد یہ جنسی رونے پیٹنے اور ماتم میں تبدیل ہو گئی کیونکہ طاعون اچانک اس تیزی کے ساتھ پنجاب میں پھیل گیا کہ ہندوستان کے دوسرے علاقوں میں کم ہی اس شدت کا حملہ ہوا ہو گا۔چنانچہ آپ نے اس افسوس ناک حالت کا ذکر کرتے ہوئے ۱۷۔مارچ ۱۹۰۱ء بذریعہ اشتہار اہل وطن کو ایک دفعہ پھر نصیحت فرمائی اور استغفار اور توبہ کرنے کی ہدایت کی۔اس اشتہار کے چند اقتباسات پیش ہیں :- ا۔”ناظرین کو یاد ہو گا کہ ۲۶۔فروری ۱۸۹۸ء کو میں نے طاعون کے بارے میں ایک پیشگوئی شائع کی تھی اور اس میں لکھا تھا کہ مجھے یہ دکھلایا گیا ہے کہ اس ملک 57