حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 56
حوادث طبیعی یا عذاب الہی امن حاصل نہیں ہوا بلکہ بمبئی میں ترقی پر ہے اور کچھ شک نہیں کہ ملک پنجاب بھی خطرہ میں ہے۔ہر ایک کو چاہیے کہ اس وقت اپنی اپنی سمجھ اور بصیرت کے موافق نوع انسان کی ہمدردی میں مشغول ہو۔۔۔۔۔۔ایک اور امر ضروری ہے جس کے لکھنے پر میرے جوش ہمدردی نے مجھے آمادہ کیا ہے اور میں خوب جانتا ہوں کہ جو لوگ روحانیت سے بے بہرہ ہیں اس کو ہنسی اور ٹھٹھے سے دیکھیں گے مگر میر افرض ہے کہ میں اس کو نوع انسان کی ہمدردی کے لیے ظاہر کروں اور وہ یہ ہے کہ آج جو ۶۔فروری ۱۸۹۸ء روز یک شنبہ ہے میں نے خواب میں دیکھا کہ خدا تعالیٰ کے ملائک پنجاب کے مختلف مقامات میں سیاہ رنگ کے پودے لگا رہے ہیں اور وہ درخت نہایت بد شکل اور سیاہ رنگ اور خوفناک اور چھوٹے قد کے ہیں۔میں نے بعض لگانے والوں سے پوچھا کہ یہ درخت کیسے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ طاعون کے درخت ہیں جو عنقریب ملک میں پھیلنے والی ہے۔میرے پر یہ امر مشتبہ رہا کہ اس نے یہ کہا کہ آئندہ جاڑے میں یہ مرض پھیلے گا یا یہ کہا کہ اس کے بعد جاڑے میں پھیلے گا۔لیکن نہایت خوفناک نمونہ تھا جو میں نے دیکھا اور مجھے اس سے پہلے طاعون کے بارے میں الہام بھی ہوا اور وہ یہ :اِنَّ اللهَ لَا يُخَيَّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ إِنَّةَ أوَى الْقَرْيَةَ۔یعنی جب تک دلوں کی وبا اور معصیت دور نہ ہو تب تک ظاہری وبا بھی دور نہیں ہو گی۔اور در حقیقت دیکھا جاتا ہے کہ ملک میں بدکاری کثرت سے پھیل گئی ہے اور خدا تعالیٰ کی محبت ٹھنڈی ہو کر ہو اوہوس کا ایک طوفان برپا ہو رہا ہے۔اکثر دلوں سے اللہ جل شانہ کا خوف اٹھ گیا ہے اور وباؤں کو ایک معمولی تکلیف سمجھا گیا ہے جو انسانی تدبیروں سے دور ہو سکتی ہے۔ہر ایک قسم کے گناہ بڑی دلیری سے ہو رہے ہیں اور قوموں کا ہم ذکر نہیں کرتے وہ لوگ جو مسلمان کہلاتے ہیں ان میں سے جو غریب اور مفلس ہیں اکثر ان میں سے چوری اور خیانت اور حرام خوری میں نہایت دلیر پائے 56