حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 53
حوادث طبعی یا عذاب الہی یاد گار کے طور پر کہ یہاں کبھی انسان بستے تھے بغداد کی زمین پر انسانی کھوپڑیوں کا ایک بلند مینار تعمیر کیا گیا۔پس کسی پہلو سے بھی دیکھیں تو چوتھی صدی ہجری اگر تاریکی کے آغاز کا اعلان تھا تو چھٹی صدی ہجری اس وقت تک ختم نہ ہوئی جب تک اسلام کے افق پر بڑے جلی الفاظ میں یہ کتبہ آویزاں نہ کر گئی کہ ہر قسم کی تاریکی نے عالم اسلام کو گھیر لیا ہے اور آج کے بعد اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی فجر طلوع ہونے تک یہاں رات کی راجدھانی ہو گی۔ان حالات کو دیکھ کر ہر گز تعجب کی جا نہیں کہ طاعون نے بھی اسلامی مملکت کی زیارت کے لیے یہی دور چنا۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے عیسائیوں کو راستے سے بھٹکنے کی سزا دینے کے لیے چھٹی صدی عیسوی میں طاعون کا وبال آیا تھا، مسلمانوں کو بھی حضرت سید الانبیاء محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے روگردانی کی سزا دینے کے لیے تقدیر الہی نے اسی جلاد کو ایک مرتبہ پھر مقرر کیا۔یقیناً اگر عیسی علیہ السلام کا دامن چھوڑ نا کسی سزا کا طلب گار تھا تو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن چھوڑنے کا قصور اس سے بہت بڑی سزا کا متقاضی تھا۔ایسا ہی ہوا اور ایک ایسی خوفناک رات عالم اسلام پر طاری ہو گئی جس کے اند ھیروں کے نیچے ہر دولت لوٹی گئی اور ہر اثاثہ چھن گیا۔نہ سیاست رہی، نہ علم، نہ تہذیب، نہ تمدن۔حکومتیں پارہ پارہ ہو گئیں۔رعب جاتارہا۔اخلاقی برتری ہاتھ سے نکل گئی۔علمی تفوق علمی دیوالیہ پن میں تبدیل ہو گیا۔رخ ایسا پلٹا کہ وہ راہیں جو حصول علم کے لیے مغرب سے مشرق کو جارہی تھیں مشرق سے سمت مغرب کو چلنے لگیں۔معطی سائل بن گئے اور فیض رساں فیض کی بھیک مانگنے لگے۔تاریخ کے اس دور کا مطالعہ کرنے سے توحید کا ایک بڑا قیمتی سبق ملتا ہے۔یہ کہ انسان خواہ کسی کی طرف منسوب ہو اپنے خالق کی نظر میں اس حد تک برابر ہے کہ اگر اس نے ایک مذہب کے دائرہ میں غلطی کی ہو اور اس غلطی کی سزا پائی ہو تو کسی دوسرے مذہب کے دائرہ میں رہ کر اگر ویسی ہی غلطی کرے گا تو ویسی ہی سزا پائے گا لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُّسُلِهِ کا ایک یہ بھی مفہوم معلوم ہوتا ہے کہ محض اس لیے کہ کوئی انسان کسی بر تر رسول کے نام لیواؤں میں سے ہے اس کی بے راہ روی معاف نہیں کی جائے گی۔ہمارا یہ کہنا کہ چھٹی صدی ہجری سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کو تنبیہ و توبیخ کا دور شروع ہوتا ہے محض ایک خیال نہیں بلکہ 53