حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 43
حوادث طبعی یا عذاب الهی قیامت آئے گی اور دنیا کی ہر چیز صفحہ ہستی سے معدوم ہو جائے گی تو يَوْمَئِذٍ يَتَّبِعُونَ الدَّاعِيَ لَا عِوَج له کے کوئی معنی نہیں بنتے کیونکہ اس دن اہل دنیا ایسے بلانے والے یعنی حضرت محمد مصطفی صل الله لم کی کامل اطاعت کرنی شروع کر دیں گے۔جس کے کردار میں اور جس کی تعلیم میں کوئی کبھی نہیں۔ظاہری بات ہے کہ جس وقت ظاہری پہاڑ اڑائے جار ہے ہوں گے اور ظاہری زمین چٹیل بنائی جارہی ہو گی اس وقت بھلا انسان کس شمار میں ہو گا کہ وہ اس قیامت کے دوران نہ صرف زندہ رہے بلکہ روز مرہ کے معمول کے مطابق اپنے سیاہ و سفید کا مالک ہو اور جس دین کو چاہے رد کر دے اور جس دین کو چاہے اختیار کرے۔پس يَوْمَئِذٍ يَتَّبِعُونَ الدَّاعِيَ کے مضمون نے واضح کر دیا کہ جن پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کیا جانا تھاوہ کوئی ظاہری پہاڑ نہیں بلکہ اسلام کی راہ میں حائل وہ عظیم قومیں ہیں جو پہاڑوں کی طرح قوی ہیکل اور مستحکم نظر آئیں گی اور اسلام کی راہ رو کے کھڑی ہوں گی۔قرآن کریم میں دوسری جگہ بھی پہاڑوں کا ذکر تمثیل کے طور پر آتا ہے لیکن یہاں اس کی تفصیلی بحث کا موقع نہیں۔بہر حال ایک بات تو واضح ہے کہ جن پہاڑوں کے ملیا میٹ کئے جانے کا ذکر ہے ان کے ساتھ اشاعت اسلام کا براہ راست تعلق ہے اس وقت عالم اسلام زبان حال سے یہ سوال کر رہا ہو گا کہ ان پہاڑوں کا کیا بنے گا اور کیسے اسلام ان عظیم قوموں پر غالب آئے گا جو اپنی کثرت کے لحاظ سے بھی مسلمانوں پر غالب ہیں۔ساز وسامان اور شوکت کے لحاظ سے بھی، دولت کے لحاظ سے بھی اور علمی اور سیاسی برتری کے لحاظ سے بھی۔پس آج جب کہ ہر حال میں مسلمان ان کا دست نگر ہو چکا ہے یہاں تک کہ ان کی گندی اور کرم خوردہ تہذیب کو بھی اپنائے چلا جا رہا ہے تو کیسے اسلام اور اسلامی اقدار ان عظیم قوتوں پر غالب آئیں گی۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ اے میرے رسول تو ان سے کہہ دے کہ اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں جیسی سر بلند اور مغرور قوموں کو خاک میں ملا دے گا اور ان کی تکبر کی گردنیں توڑے گا۔وہ ریزہ ریزہ کر کے چٹیل میدان کی طرح زمین کے ساتھ ہموار کر دی جائیں گی۔تب عاجزی اور انکساری کے اس مقام پر اتر آنے کے بعد وہ اس لائق ہونگی کہ تیری پیروی کریں۔یعنی تیری اس تعلیم کی پیروی کریں جس میں کوئی خم اور کج نہیں۔43