حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 38
حوادث طبعی یا عذاب الہی شک نہیں اور یہ حقیقت اپنی جگہ قائم رہتی ہے اور یہ عہد نامہ جدید سے قطعی طور پر ثابت ہے کہ عیسائیت ایک محدود قوم اور ایک خاص نسل کے لئے ایک معین وقت تک پیغام حیات مقرر کی گئی تھیں اور اس کا مشن فی ذاتہ کبھی بھی عالمی مشن مقرر نہیں ہوا چنانچہ عہد نامہ جدید میں اشارہ بھی اس بات کا ذکر نہیں ملتا کہ حضرت مسیح کا پیغام کل عالم اور ہر زمانہ کے لئے تھا۔پس سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر رَسُولًا إلى بنج اشراء بیل کو غلبہ کے لئے تین سوسال درکار تھے بلکہ تین سو سال کے بعد بھی غلبہ کا حامل نہیں ہوا بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ غلبہ کی تکمیل کے سامان پیدا ہو گئے تو وہ رسول جس کا دعوی ہی یہ ہو یا آئیهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا کہ اے بنی نوع انسان میں تم سب کے لئے خواہ مشرق میں بسنے والے ہو یا مغرب میں ، سفید قوموں سے تعلق رکھتے ہو یا سرخ گندم گوں یا زرد یا سیاہ فام میں تم سب کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں اتنے بڑے اور عظیم الشان مقصد کے حصول کے لئے اور اس عظیم پیغام کے تمام دنیا پر کلیتہ غالب آنے کے لئے تین سو سال کے مقابلہ پر نسبتاً ایک زیادہ لمبا زمانہ مقرر ہونا چاہئے۔قرآن و حدیث کی طرف جب ہم رہنمائی کے لئے رجوع کرتے ہیں تو صاف معلوم ہو تا ہے کہ اسلام کا غلبہ دو ادوار میں منقسم کر دیا گیا ہے۔پہلا دور یعنی اسلام کے اولین غلبہ کا دور شان محمدی سے تعلق رکھتا ہے اور حضرت محمد مصطفی ملی لی ایم کے وقت سے لے کر اس وقت تک ممتد ہے جب اسلام کے لئے یہ مقدر تھا کہ اس کے غلبہ کی پہلی روڑک کر مائل بہ انحطاط ہو جائے گی اور اسلام کو ایسے خطر ناک ایام کا منہ دیکھنا پڑے گاجو دنوں کی نسبت راتوں کے زیادہ مشابہ ہوں اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنی خاص قدرت اور جلوہ نمائی کے ساتھ پھر فضل عظیم لے کر آئے گا اور حضرت محمد مصطفی صل الله علم کو ایک مرتبہ پھر اپنی ظلی شان میں آخرین 1 میں مبعوث کرے گا۔تا کہ آپ کے نقش قدم پر قدم بقدم چلنے والا مہدی دوبارہ ان کے دلوں کو ایمان سے منور کر دے اور اگر ایمان ثریا تک بھی اٹھ چکا ہو تو ثریا سے اتار کر اس کی شمعیں مسلمانوں کے 1 سورۃ الجمعہ آیت نمبر ۳-۴۔2 بخاری کتاب التفسیر سورۃ الجمعہ۔38