حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 37
حوادث طبیعی یا عذاب الہی انہیں غاروں میں بسر کر دیا لیکن یہ پسند نہ کیا کہ قوی دشمن کے خوف سے اپنے دین کو تبدیل کر دیں۔سطح زمین پر جیسے جیسے رومن تاریخ کروٹیں بدلتی رہی ویسے ویسے ہی یہ عیسائی اقوام کبھی باہر نکل کر کھلے آسمان تلے دم لے لیتیں اور کبھی پھر غاروں میں پناہ گزیں ہو کر ایک نیم خوابیدہ سی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو جاتیں۔یہ دور اس طرح چلتارہا یہاں تک کہ عذاب کی مختلف شکلوں نے پے در پے صدمے پہنچا کر عظیم سلطنت روما کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور آخر دنیا نے یہ حیرت انگیز نظارہ دیکھا کہ عیسائیت ان غاروں سے نکل کر ترقی کے بلند و بالا میناروں کی زینت بن گئی اور آج ان اقوام کی تعمیر کردہ سر بفلک عمارتیں آسمان سے باتیں کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔غیر معمولی بلندی کی وجہ سے انہیں سکائی سکریپر ز کا نام دیا گیا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی یہ عجیب شان ہے کہ وہ لوگ جو کبھی خدا تعالیٰ کے پیغام کے لئے سطح زمین پہ نہ بس سکتے تھے اور بالائے زمین کھلی فضا میں رہنے کی بجائے انہوں نے محض خدا کی خاطر زیر زمین گہری، تنگ و تاریک غاروں میں رہنا پسند کر لیا اللہ تعالیٰ نے انہیں ظاہری رفعتیں بھی ایسی عطا کیں کہ ان کی عمارتیں ہی نہیں وہ خود بھی آسمان سے باتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔کبھی ان کے قدم چاند کی سر زمین کو روندتے ہیں اور کبھی ان کے راکٹس مارس کی بلندیوں کو سر کر لیتے ہیں۔پس جہاں تک واقعات کا تعلق ہے گو ہر دنیاوی معیار کے لحاظ سے یہ بات ناقابل فہم اور نا ممکن دکھائی دیتی ہے کہ حضرت عیسی کی وفات کے بعد تین صدیوں کے کمزور عیسائی کسی وقت دنیا پر ایک عظیم غلبہ حاصل کر لیں گے اور سماء الدنیا پر پرواز کرتے ہوئے دکھائی دیں گے۔لیکن واقعات اس ناممکن تصور کو ممکن بنا کر دکھارہے ہیں۔حضرت عیسٰی علیہ السلام کو صرف بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا تھا اور اگر غیر قومیں ان کے پیغام کو بزور شمشیر دبانے کی کوشش نہ کرتیں تو ممکن ہے کہ عیسائیت محض بنی اسرائیل تک محدود رہتی سوائے اس کے کہ اپنے ترقی کے سفر کے دوران اپنے دائیں بائیں وقتاً فوقتاً کچھ پگڈنڈیاں بنالیتی لیکن لَاغْلِبَنَّ آنَا وَرُسُلِی کے اٹل قانون سے جب غیر قوموں نے ٹکر لی ہے تو وہ خائب و خاسر ہو کر کلیۂ مغلوب ہونے پر مجبور کر دی گئیں۔بہر حال اس میں کوئی 37