حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 36 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 36

حوادث طبیعی یا عذاب الہی اگر آپ تمام بنی نوع انسان کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے تھے تو محض عرب قوم پر غلبہ عقل کو مطمئن نہیں کر سکتا۔آج جبکہ حضرت رسول اکرم صلی نیم کے ظہور کو چودہ سو برس ہونے کو آئے حالت یہ ہے کہ دوسری قومیں تو الگ رہیں صرف عیسائیوں کے مقابل پر بھی مسلمان ہر لحاظ سے مغلوب نظر آتے ہیں۔آج عیسائیوں کو ان پر عددی اکثریت بھی حاصل ہے۔اموال کا غلبہ بھی نصیب ہے۔سیاسی غلبہ بھی نصیب ہے اور عسکری قوت کا غلبہ بھی نصیب ہے۔اسی طرح علمی تمدنی اور معاشرتی طور پر بھی دنیا میں عیسائی قومیں غالب اور مسلمان اقوام مغلوب دکھائی دے رہی ہیں۔اس سوال پر غور کرتے ہوئے سب سے پہلے اس مسئلہ کو حل کرناضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیاء کو جو غلبہ کا وعدہ دیا جاتا ہے اس کی مدت کیا ہونی چاہئے۔جب تک یہ طے نہ ہو جائے کہ کتنے عرصہ میں غلبہ ہونا چاہئے اس وقت تک اس بارہ میں کوئی فیصلہ نہیں دیا جاسکتا۔قطعی اس پہلو سے جب ہم انبیائے گزشتہ کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو اگر چہ غلبہ ایک آخری اور نتیجہ کے طور پر واضح طور پر دکھائی دیتا ہے لیکن کوئی معین مدت ایسی نظر نہیں آتی جو اس بارہ میں رہنما اصول کا کام دے سکے۔عیسائیت کے غلبہ کو ہی لیجئے حضرت عیسی علیہ السلام کے دعوی کے بعد تقریبا تین سو سال تک عیسائیت ایک اُبھرتی ڈوبتی اور پھر ڈوبتی اور اُبھرتی ہوئی ناؤ کی طرح دکھائی دیتی ہے جس کا مستقبل غیر یقینی نظر آتا ہے۔ایسے ایسے ادوار بھی عیسائیت پر آئے کہ قومی اور ظالم دشمن سے بظاہر کلیۂ مغلوب ہو کر عیسائیوں کو زیر زمین غاروں میں پناہ لینی پڑی۔اصحاب کہف کی یاد گار وہ غاریں آج بھی یورپ میں موجود ہیں جن کا زیر زمین سلسلہ میل ہا میل تک پھیلا ہوا ہے۔جنہیں کیٹا کوم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ان کے راستے اتنے پیچیدہ اور اند ھیرے ہیں کہ آج کے جدید روشنی کے سامانوں کے باوجود بڑی احتیاط کے ساتھ قافلوں کی صورت میں زائرین راستہ دکھانے والوں کے پیچھے چل کر معائنہ کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔اس کے باوجود کئی زائرین راستہ بھٹک کر ان پیچ در پیچ ظلماتی راستوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔لیکن یہی ظلماتی راہیں کبھی موحد اور مظلوم عیسائیوں کے نور سے روشن تھیں۔یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے بالائے زمین خطرات کو ان زیر زمین خطرات سے بہت زیادہ بھیانک پایا اور بسا اوقات سال ہا سال کا عرصہ 36