حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 28
حوادث طبیعی یا عذاب الہی طرف مبذول نہ کروائی کہ وہ اسے کوئی قابل ذکر بات سمجھ کر چند سطروں میں ہی اس کا ذ کر محفوظ کر دیتے۔چنانچہ رومن مؤرخین حضرت عیسی علیہ السلام کے ایک سو سال کے بعد تک بھی یسوع نام کے کسی نبی کے ظاہر ہونے کا ذکر نہیں کرتے اور گویا واقعہ صلیب معمول کے مطابق ایک روز مرہ کی قانونی کارروائی سے زیادہ اور کوئی حیثیت نہ رکھتا تھا۔اس قسم کی کارروائیاں قومی تاریخ کے صفحات میں محفوظ کرنے کے لائق شمار نہیں کی جاتیں۔حضرت عیسٰی علیہ السلام کے واقعہ کی تاریخی عظمت کا انحصار کلیۂ عیسائیت کے پھیلاؤ سے تھا۔جوں جوں عیسائی قوم ترقی کرتی چلی گئی بعد میں آنے والے مؤرخین اس واقعہ کو پہلے سے بڑھ کر اہمیت دیتے چلے گئے۔مگر عہد میسیج میں یقیناً سلطنت روما کے مقابل پر مسیح کی ظاہری حیثیت قابل ذکر نہ تھی کہ ان کا مرنا یا جینا سلطنت روما کے اہلکاروں کی نگاہ میں کوئی قابل اعتناء بات سمجھی جاتی۔اسی طرح اس کائنات کا سب سے بڑا واقعہ یعنی آنحضور صلی للی نام کا دعوی فتح مکہ سے قبل تک اس زمانہ کے انسان کو ایک ایسا عام اور معمولی واقعہ نظر آتا تھا کہ جب تک مسلمانوں کے بعد کی فتوحات نے مشرق و مغرب میں زلازل بر پا نہیں کئے اس وقت تک رومن اور فارس کی سلطنتوں نے ظہور محمد مصطفی صل اللی علم کو کوئی خاص قابل اعتناء بات نہ سمجھا۔کسریٰ کی حکومت تو بہت جلد اسلام سے مغلوب ہو گئی۔اس لئے ہم نہیں کہہ سکتے کہ ایرانی مؤرخین نے فتح مکہ سے قبل حضرت رسول اکرم صلی ا کرم کا کوئی ذکر اپنی تاریخ کے صفحات میں محفوظ کیا یا نہیں۔لیکن آنحضرت صلی الیکم کے عہد کے رومن مؤرخین کے متعلق ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ان کے ہاں کائنات کے اس عظیم ترین واقعہ کا کوئی ذکر تک نہیں ملتا۔ایران کی عظیم مشرقی سلطنت کے بارہ میں بھی ان روایات کی روشنی میں جو اسلامی تاریخ کے ذریعہ ہم تک پہنچی ہیں۔یہ اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں کہ حضور اکرم صلی نی کی زندگی میں شہنشاہ ایران کے نزدیک یہ ایک بہت معمولی واقعہ تھا۔اس دور کے خسرو کے متعلق یہ لکھا ہے کہ اس نے یمن کے گورنر کو یہ کہلا بھیجا تھا کہ شنید کے مطابق کوئی اس قسم کا دعویدار عرب میں پیدا ہوا ہے اسے پکڑوا کر میرے دربار میں حاضر کرو۔یمن کے گورنر کے نزدیک حضور اکرم صلی للی کم کی جو 28