حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 24 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 24

حوادث طبعی یا عذاب الہی منهمر۔(سورة القمر :۱۲) آسمان نے اپنے تمام دروازے کھول دیئے اور ایسا موسلادھار مینہ برسنا شروع ہوا جس کی کوئی مثال اس سے پہلے دیکھی نہ گئی تھی۔حضرت نوح علیہ السلام اور آپ پر ایمان لانے والے کشتی میں سوار ہوئے اور اپنے ساتھ معین مدت کے لئے زاد سفر بھی لے لیا۔کچھ جانور اور کچھ پرندے جو پہلے سے اس غرض کے لئے جمع کئے گئے تھے وہ بھی اس کشتی میں سوار کر لئے گئے۔لیکن اس وقت تک بھی دیکھنے والے دیکھتے رہے اور تمسخر اڑاتے رہے۔یہاں تک کہ وہ کشتی پانی کی بلند ہوتی ہوئی سطح کے ساتھ بلند تر ہوتی چلی گئی اور مکانات ، اونچی جگہیں اور ٹیلے رفتہ رفتہ پانی میں ڈوبنے لگے لیکن اس وقت بھی ایمان نہ لانے والوں کو یقین نہ آیا کہ کشتی کے سواروں کے سوا اس علاقہ کے باقی تمام لوگ غرق ہو جائیں گے۔خود حضرت نوح علیہ السلام کے ایک جسمانی بیٹے نے بھی اپنی بد قسمتی سے یہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور اس غیر معمولی بارش اور سیلاب کو آخر وقت تک ایک طبعی حادثہ سمجھتارہا۔اسے یہ گمان تو شاید گزرتا ہو کہ یہ کشتی کے سوار غرق ہو جائیں گے لیکن یہ و ہم اس کے دل میں نہ آیا کہ سیلاب پہاڑوں کی چوٹیوں سے بھی اوپر نکل جائے گا۔چنانچہ قرآن کریم کے بیان کے مطابق ہمیں اہل دنیا کی جو آخری آواز سنائی دیتی ہے وہ حضرت نوح علیہ السلام کے اس بیٹے کی یہ آواز ہے : ساوِی الَى جَبَلٍ يَعْصِمُنِي مِنَ الْمَاءِ۔(سورة صور: ۴۴) کہ میں پہاڑ کی پناہ لے لوں گا اور یہ پہاڑ مجھے بچالے گا۔لیکن ایک بلند و بالا موج حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی اور پہاڑ پر پناہ لینے والے اس وجود کے درمیان حائل ہو گئی۔پانی بلند سے بلند تر ہو تا رہا اور پہاڑوں کی چوٹیاں روپوش ہونے لگیں۔تیر نے والی اس کشتی کے سوا سطح آب پر کوئی اور چیز نظر نہ آتی تھی۔یہ واقعہ جو تفاصیل کے کسی قدر اختلاف کے ساتھ دنیا کے تین بڑے مذاہب یعنی اسلام، یہودیت اور عیسائیت کو مسلم ہے۔کم از کم ان اہل مذاہب کے لئے تو ضر ور ایک حجنت ہے اور یہ وہ تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ معمول کے مطابق طبعی قوانین کے تابع برسنے والی بارش بھی کبھی عذاب الہی کارنگ اختیار کر سکتی ہے۔24