حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 17
حوادث طبعی یا عذاب الہی غائب ہو جائے تو بہنے والا پانی تمہارے لیے خدا کے سوا کون لائے گا۔(۸) قحط کا ظاہر ہونا اور قوم کا شدید خوف وہراس میں مبتلا ہو جانا۔وَضَرَبَ اللهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ مِنَةً مُطْمَئِنَّةً يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللهِ فَأَذَاقَهَا اللهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ۔( سورة النحل: ۱۱۳) ترجمہ : اللہ تعالیٰ تمہیں سمجھانے کے لیے) ایک بستی کا حال بیان کرتا ہے جسے ہر طرح سے) امن حاصل ہے اور اطمینان نصیب ہے ہر طرف سے اس کا رزق اسے با فراغت پہنچ رہا ہے پھر ( بھی ) اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی۔اس کی ناشکری پر اللہ نے اس کے باشندوں پر ان کے اپنے گھناؤنے عمل کی وجہ سے بھوک اور خوف کالباس نازل کیا ہے۔(9) قوموں اور ملکوں کا خوفناک جنگوں کے ذریعہ ایک دوسرے کو تباہ برباد کرنا جس کے نتیجہ میں مختلف قسم کی تکالیف کا المناک سلسلہ دیکھنا پڑے۔جو کئی قسم کی تنگیاں اور مشکلات قوموں پر وارد کرتا ہے یہاں الضراء سے مراد غالباً ایسی تمام سختیاں اور تکلیفیں ہیں جو بڑی بڑی جنگوں کے بعد عموماً قوموں کو گھیر لیتی ہیں مثلاً آزادیوں کا سلب ہونا۔اقتصادیات کا تباہ ہونا۔معاشرہ اور تہذیب و تمدن میں فساد ظاہر ہونا۔وبائی امراض کا پھوٹناوغیرہ وغیرہ۔وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِنْ نَّبِيَّ إِلَّا أَخَذْنَآ أَهْلَهَا بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَضُرَّعُونَ۔(سورۃ الاعراف: ۹۵) ترجمہ : ہم نے کسی شہر کی طرف کوئی رسول نہیں بھیجا مگر یوں ہی ہوا کہ ) ہم نے اس میں بسنے والوں کو سختی اور مصیبت سے پکڑ لیا تا کہ وہ عاجزی اور زاری کریں۔(۱۰) پرندوں کا عذاب الہی بن کر کسی قوم پر اترنا۔جیسے فرمایا: وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ تَرْمِيهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِيلٍ فَجَعَلَهُمْ 17