حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 13 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 13

حوادث طبیعی یا عذاب الہی بارشیں برسنے والی تھیں۔اس امر کا فیصلہ کہ یہ بارش رحمت کی ہو یا عذاب کی، قوم نوح پر چھوڑ دیا گیا۔حضرت نوح کہتے ہیں :- فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا۔يُرْسِلِ السَّمَاءِ عَلَيْكُمْ مِّدْرَارًا۔وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنهرًا - ( سورة نوح: ۱۱-۱۳) ترجمہ : میں نے ان سے کہا اپنے رب سے استغفار کرو وہ بڑا بخشنے والا ہے۔اگر تم تو بہ کرو گے تو برسنے والے بادل کو تمہاری طرف بھیجے گا اور مالوں اور اولاد سے تمہاری امداد کرے گا۔اور تمہارے لیے باغات اگائے گا اور تمہارے لیے دریا چلائے گا۔اب دیکھئے کتنا پر لطف مضمون ہے اور عقل انسانی کے لیے کسی اعتراض کی گنجائش نہیں چھوڑی گئی۔وہی بارش جس کے سامان طبعی قوانین کے نتیجہ میں نامعلوم طویل مدت پہلے سے تیار ہور ہے تھے۔وہی بارش عذاب بن کر بھی آسکتی تھی اور انعام بن کر بھی۔اگر انعام بن کر آتی تو اس کے نتیجہ میں حضرت نوح کے قول کے مطابق جو یقیناً وحی الہی تھا اس طرح وقفے وقفے کے ساتھ برستی کہ سیلاب لانے کی بجائے فیض رساں نہریں بہادیتی اور اس کے نتیجہ میں حضرت نوح کی قوم کے اموال غیر معمولی برکت پاتے اور ان کے نفوس میں بھی برکت پڑتی۔لیکن افسوس کہ انکار نے اس پانی کو کیسے عذاب کے پانی میں تبدیل کر دیا کہ خطہ ارض کے کونے کونے میں طوفان نوح ایک مثل بن چکا ہے۔پانی کا ذکر چل پڑا ہے اس لیے ایک دفعہ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں پانی سے جو دو مختلف خدمات لی گئیں ان کا بیان بھی یہاں بے محل نہ ہو گا۔ایک بات تو پہلے بیان کی جاچکی ہے کہ کس طرح پانی کو عذاب الہی کے طور پر استعمال کیا گیا اور فرعون اور اس کی قوم کو اس کے نتیجہ میں ہلاک کر دیا گیا۔حضرت موسیٰ کے تعلق میں ہی پانی کے رحمت بننے کی ایک عملی مثال بھی موجود ہے۔جس پانی نے فرعون اور اس کے لشکر کو بے شمار وسائل کے باوجو د مغلوب کر دیا وہ 13