حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 12
حوادث طبیعی یا عذاب الہی کے نتیجہ میں ظاہر ہونے والی جنگوں اور فتنہ و فساد کو بھی بعض مخصوص حالات میں عذاب الہی کا ذریعہ بنالیا جاتا ہے۔مندرجہ بالا امور کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جماعت احمد یہ عذاب الہی کا جو اسلامی فلسفہ پیش کرتی ہے اس کا مادہ پرستوں کے نظریہ سے بالواسطہ کوئی ٹکراؤ نہیں۔البتہ فرق یہ ہے کہ دنیا دار مادہ پرست حوادث زمانہ کو طبعی محرکات اور موجبات کا نتیجہ قرار دینے پر ہی اکتفا کرتا ہے جبکہ اسلام اس حد تک اس مادی فلسفہ کی تائید کرنے کے علاوہ یہ زائد بات بیان کرتا ہے۔اگر چہ تمام حوادث کی کوئی طبعی وجہ موجود ہے اور خدا تعالیٰ کی منظم تخلیق اور کامل نظام خلق کا تقاضا بھی یہی ہونا چاہئے تھا لیکن بات یہی ختم نہیں ہو جاتی بسا اوقات اللہ تعالیٰ بلند تر مذ ہبی مقاصد کے حصول کے لیے انہی طبعی ذرائع کو استعمال کرتا ہے ہم خود اس کے پیدا کردہ ہیں اور اسی کے تابع ہیں۔جب ایسا ہو اور حوادث زمانہ کو سزا یا تنبیہ کے طور پر استعمال کیا جائے تو اس وقت یہی طبعی قوانین جو نتیجہ ظاہر کرتے ہیں اس کا نام عذاب الہی رکھا جاتا ہے اس کے بر عکس قرآن کریم سے یہ بھی ثابت ہے کہ طبعی قوانین کو جیسا کہ بعض اوقات رضائے الہی کے خاص اظہار کے لیے ہی مسخر کیا جاتا ہے اور جب بھی ایسا ہو طبعی تغیرات کے نتیجہ میں کسی قوم یا اشخاص کے لیے غیر معمولی فضل اور رحمت کے سامان پیدا ہوتے ہیں۔حضرت نوح نے اپنی قوم کو جہاں عذاب الہی سے ڈرایا وہاں ایمان کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے خاص فضلوں اور رحمتوں کا وارث بننے کا وعدہ بھی دیا اور اس بات کی ترغیب دی کہ بجائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کو ناراض کر کے قوانین طبعی کو اپنا دشمن بناؤ اور اس کو راضی کر کے قوانین طبعی کو اپنا غلام اور خدمت گار بناؤ۔سورۃ نوح میں اس مضمون کو نہایت لطیف رنگ میں بیان فرمایا گیا ہے۔اس سے اسلامی فلسفہ عذاب و ثواب بڑی آسانی سے واضح ہو جاتا ہے۔اس امر سے تو ہماری دنیا بخوبی آگاہ ہے کہ حضرت نوح کے لیے قوم پر بکثرت بارش کے ذریعہ عذاب بنایا گیا لیکن عام طور پر اس حقیقت سے لوگ بے خبر ہیں کہ قرآن کریم کے ارشاد کے مطابق یہی بارش رحمت الہی کا مظہر بھی بن سکتی تھی۔ایک امر تو بہر حال مقدر ہو چکا تھا کہ طبعی قوانین کے نتیجہ میں اس علاقہ میں جہاں حضرت نوح کی قوم آباد تھی بکثرت 12