حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 11 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 11

حوادث طبیعی یا عذاب الہی مخاطب اس کا جواب دے سکتے تھے نہ دوسری صدی کے مسلمان مخاطب، تیسری صدی کے مسلمان بھی اس کے جواب سے لاعلم تھے۔چوتھی صدی کے بھی اور پانچویں اور چھٹی صدی کے بھی یہاں تک کہ چودھویں صدی میں وہ چاند طلوع ہو ا جس کے عہد میں اسلام کو غلبہ نو کے سامان فراہم کئے جانے تھے۔اس وقت کسی مسلمان محقق نے نہیں بلکہ خود عیسائی محققین نے اس فرعون کی لاش کو محفوظ صورت میں دریافت کر لیا جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ کر کے غرقابی کی سزا پائی تھی اور آج یہ لاش قرآن کریم کی صداقت پر گواہی دیتی ہوئی اہل بصیرت کے لیے عبرت کا سامان مہیا کر رہی ہے اور ساتھ ہی قرآن کریم کے پیش کردہ تمام مکالمہ کی صداقت کا اعلان کر رہی ہے جو قرآن کریم نے فرعون کے آخری لمحات کا نقشہ کھینچنے کے لیے ہمارے سامنے پیش کیا ہے۔اس کا ایک پہلو یہ تھا کہ فرعون کا غرق ہونا نیل کے ڈیلٹا میں غرق ہونے والے کو لکھوکھا انسانوں سے مختلف حیثیت رکھتا تھا۔اس ایک واقعہ کو ہم عذاب الہی قرار دیتے ہیں جبکہ ایسے ہی دوسرے لاکھوں واقعات محض حادثات کا نام پاتے ہیں۔(۳) مادی تغیرات اور طبعی قوانین کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی تبدیلیاں جب عذاب کا نام پاتی ہیں تو ان کے ساتھ کچھ علامتیں اور کچھ شرائط پائی جاتی ہیں اور یو نہی بلاوجہ کسی تبدل و تغیر کو عذاب کا نام نہیں دیا جاسکتا۔(۴) ایسے تمام حوادث زمانہ جو مذہبی اصطلاح میں عذاب کا نام پاتے ہیں ان کے نتیجہ میں بعض اہم مقاصد حاصل ہوتے ہیں۔جن کا ذکر آئندہ چل کر کیا جائے گا۔اس کے بر عکس روز مرہ کے حوادث اگرچہ کوئی نہ کوئی نتیجہ ضرور پیدا کرتے ہیں۔لیکن جن مذہبی مقاصد سے عذاب کا تعلق ہوتا ہے عام حوادث کے نتیجہ میں وہ رونما نہیں ہوتے۔(۵) قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ قوانین طبعی کے نتیجہ میں جس قسم کے تغیرات بھی رونما ہو سکتے ہیں مختلف اوقات میں ان میں سے ہر ایک تغیر کو عذاب الہی کا ذریعہ بنایا گیا اور آئندہ بھی بنایا جاسکتا ہے اسی طرح انسانی معاشرہ میں پیدا ہونے والی خرابیوں کے نتیجہ میں یا دیگر عوامل 11