حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 10 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 10

حوادث طبیعی یا عذاب الہی تفسیری مفہوم پیش کریں گے) کہ چونکہ تو اپنی روح کی نجات کی خاطر ایمان نہیں لا رہا اور تمام نشانات کو رد کر چکا ہے اور سب مواقع کھو چکا ہے جن سے استفادہ کی صورت میں تیری روح کو نجات مل سکتی تھی اس لیے آج تیری روح کو نجات دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا۔ہاں تجھے اپنے بدن کو بچانے کا خوف لاحق ہے اس لیے ہم تیری اس التجا کو اس رنگ میں قبول کریں گے کہ تیرے بدن کو بچالیں گے اور تیری لاش کو محفوظ کرنے کا انتظام کریں گے تاکہ آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے تو ہمیشہ عبرت کا سامان مہیا کرتا رہے اور تیرا بدن دوسروں کی نجات کا موجب ہو سکے۔یہ نہایت لطیف جواب محض دعویٰ نہیں اپنی صداقت کا ثبوت خود اپنے ساتھ رکھتا ہے جس وقت قرآن کریم کے اس مکالمہ سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نوع انسان کو مطلع فرمایا اس وقت تک فرعون کے متعلق یہ نظریہ تو موجود تھا کہ وہ دریائے نیل کے ڈیلٹا میں غرق ہو گیا لیکن اس کے بدن کی حفاظت اور آئندہ آنے والوں نسلوں کی عبرت کا سامان بننے کا کوئی تصور نہ تو کسی مذہبی صحیفہ میں موجود تھا نہ تاریخی کتاب میں۔اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ اعلان کروایا کہ ہم نے فرعون سے اس کی لاش کے بچانے کا وعدہ کیا تھا اور یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ وہ اس رنگ میں محفوظ کی جائے گی کہ بنی نوع کے لئے عبرت کا سامان مہیا کرے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہ ایک ایسا دعویٰ تھا جو اگر سچا تھا تو دعوی کرنے پر کسی انسان کو قدرت نہ ہو سکتی تھی جب تک خود اللہ تعالیٰ اس کی خبر نہ دے۔اس زمانہ میں بھی فرعون کی لاش کا کوئی پتہ نہ تھا۔اور اگر اس دعویٰ کو انسان کا خود ساختہ دعویٰ قرار دیا جائے تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ایسا دعویٰ کرنے والا خود اپنی تکذیب کے سامان فراہم کر رہا ہے جو سراسر عقل کے خلاف بات ہے۔اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آپ کے صحابہ سے اس آیت کے نزول کے بارہ میں سوال کیا جاتا کہ فرعون کی لاش محفوظ کرنے کی خبر اگر خدا نے دی ہے تو وہ لاش کہاں ہے؟ کس طرح محفوظ ہوئی اور کیسے عبرت کا سامان بنی ؟ تو کوئی صحابی اس کا جواب دینے پر قادر نہ ہوتا۔سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ خود اس کی راہنمائی فرماتا۔اگر بعد کی نسلوں سے یہی سوال دہرایا جاتا۔تو سائل ہمیشہ اپنے مخاطب کو گنگ اور لا جواب پاتا۔نہ تو پہلی صدی کے مسلمان 10