حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 9 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 9

حوادث طبعی یا عذاب الہی جب ہم اس مکالمہ پر غور کرتے ہیں جو ایک دہریہ کے لیے یا مادہ پرست کے لیے مبینہ طور پر خداتعالی اور فرعون کے مابین ہوا تو قرآن کا دوسرا دعویٰ ہمارے سامنے آجاتا ہے کہ فرعون کا غرق ہونا کسی اتفاقی حادثے کا نتیجہ نہ تھا بلکہ مشیت الہی کے مطابق موسیٰ کے انکار اور مخالفت اور بغاوت کی سزا کے طور پر پیش آیا۔یہاں تک کہ آخری وقت میں خود غرق ہونے والے نے بھی اس بات کو محسوس کیا اور مرنے سے پہلے اس خدا کی طرف رجوع کیا جسے وہ بنو اسرائیل کا خدا قرار دیتا ہے۔فرعون کا یہ کہنا کہ آمَنْتُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِى أُمَنَتْ بِهِ بَنُوا إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ۔(سورۃ یونس: 91) ترجمہ : ” میں ایمان لاتا ہوں کہ جس مقتدر ہستی پر بنواسرائیل ایمان لائے۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور سچی فرمانبرداری اختیار کرنے والوں میں سے ہو تا ہوں“ اس بات کی طرف لطیف اشارہ ہے کہ وہ دعا کے وقت اس بات میں کسی قسم کے شک وشبہ کی گنجائش باقی نہیں رہنے دینا چاہتا تھا کہ جس خدا سے وہ مانگ رہا ہے وہ کونسا خدا ہے۔چنانچہ بڑی وضاحت سے وہ یہ اظہار کرتا ہے کہ وہ اس خدا سے نجات مانگ رہا ہے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ ڈوبتے وقت ایسا خوف وہر اس اس پر طاری تھا کہ وہ غیر مبہم الفاظ میں اپنی مکمل شکست کو تسلیم کرنے پر تیار ہو چکا تھا اور اس شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہنے دینا چاہتا تھا کہ اس میں انانیت کی رگ باقی ہے۔چنانچہ کھلم کھلا شکست تسلیم کر کے اس رب سے مانگتا ہے جس کی بنو اسرائیل عبادت کرتے تھے۔بہر حال یہ بات قطعی ہے کہ قرآن کریم کے پیش کردہ اس مکالمہ کے مطابق خود فرعون کو بھی مسلم تھا کہ یہ حادثہ نہیں عذاب الہی ہے اور فرعون کی اس التجا کے جواب میں خدا تعالیٰ نے جو جواب دیاوہ ہمارے نقطہ نگاہ سے یعنی اس مسئلہ کے لحاظ سے جس پر ہم بحث کر رہے ہیں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔یہ جواب محض ایک دعویٰ کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ دعوی کی صداقت کی تائید میں ایک ایسا نا قابل تردید ثبوت بھی پیش کرتا ہے جو اس مکالمہ کے ایک ایک نقطہ کی صداقت پر گواہ بن کر کھڑا ہو جاتا ہے اور اس واقعہ کو ہر چند طبعی قوانین کے تابع ظاہر ہوا تھا ایسے کہ لکھوکھا واقعات سے الگ اور ممتاز کر کے پیش کرتا ہے۔وہ جواب یہ تھا (اور یہاں ہم ترجمہ کی بجائے