حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 94
حوادث طبعی یا عذاب الہی پیشگوئی کا اولین مصداق تھی طاعون کے نتیجہ میں اس کثرت سے احمدیت کی طرف رجحان ہوا کہ احمدیت کی تاریخ میں اس کی کوئی دوسری مثال نظر نہیں آتی۔یعنی قبول احمدیت کی وجوہات کا اگر علیحدہ علیحدہ جائزہ لیا جائے تو اس مقابلہ میں طاعون غالباً ہر دوسری وجہ پر سبقت لے جائے گا۔اس ضمن میں تاریخ احمدیت سے ایک چھوٹا سا اقتباس درج ذیل کیا جاتا ہے جس سے قبول احمدیت کے ضمن میں طاعون کے اثرات کا کچھ اندازہ لگایا جا سکتا ہے :- ( تاریخ احمدیت جلد دوم صفحه ۲۱۶) ”جیسا کہ حضور نے پیشگوئی فرمائی تھی جماعت سے بھی خارق عادت سلوک ہوا جس کے نتیجہ میں جماعت کی ان دنوں اتنی غیر معمولی ترقی ہوئی کہ اس کی تعداد ہزاروں سے نکل کر ۱۹۰۲ء میں ایک لاکھ تک پہنچ گئی۔۱۹۰۳ء میں اس کثرت سے لوگ آپ کے مبائعین میں شامل ہوئے کہ اختبار الحکم کو مجبورانئے مبائعین کی فہرست کا کالم ہی بند کر دینا پڑا۔۱۹۰۴ء میں یہ تعداد دولاکھ تک اور ۱۹۰۶ء میں چار لاکھ تک پہنچ گئی۔“ یہاں یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ ملک کی اکثریت تو بہر حال ایمان نہیں لائی پھر ہزارہا انسانوں یا ایک دولاکھ انسانوں کے قبوں احمدیت کے نتیجہ میں طاعون کا ٹل جانا کیا معنی رکھتا ہے اور کیا یہ پیشگوئی کے مدعا اور روح کے منافی ہیں؟ اس سوال کا ایک جواب تو یہ ہے کہ عذاب الہی کے ملنے کے لئے اکثریت کے ایمان کی نہ تو کوئی شرط قرآن کریم میں نظر آتی ہے نہ ہی تاریخ مذہب پر نگاہ ڈالنے سے یہ امر مستنبط ہوتا ہے۔اس کے بر عکس ایسی مثالیں کثرت سے ملتی ہیں کہ قوم کے ایک حصہ کے استغفار یا ایمان لانے کے نتیجہ میں عذاب ٹل گئے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کا وہ مشہور واقعہ بھی اسی پہلو سے فلسفہ عذاب پر روشنی ڈالتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے در میان ایک مکالمہ و مخاطبہ کی صورت میں یہ دکھایا گیا ہے کہ ایک ایسی بستی کو جس کے لئے عذاب مقدر ہو چکا تھا اللہ تعالی اس صورت میں بھی بچانے پر آمادہ تھا کہ وہاں چند بندے ہی خدا کا خوف رکھنے والے موجود ہوں۔پس طاعون کی وباء کے دوران چار لاکھ کے قریب انسانوں کا مامور وقت پر ایمان لانا کوئی 94