حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 90 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 90

حوادث طبیعی یا عذاب الہی ہلاک کروں۔سو وہ بھی میری پیشگوئی کے مطابق ۴ / اپریل ۱۹۰۶ء کو مع اپنے دونوں بیٹوں کے طاعون سے ہلاک ہو گیا۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۳۶-۲۳۷) ۴- نور احمد موضع بھڑی چٹھہ تحصیل حافظ آباد کا باشندہ تھا۔۔۔وہ بول اٹھا کہ طاعون ہمیں نہیں چھوئے گی بلکہ یہ طاعون مرزا صاحب کو ہلاک کرنے کے لئے آئی ہے اور اس کا اثر ہم پر ہر گز نہیں ہو گا مر زا صاحب پر ہی ہو گا۔۔۔۔۔۔ایک ہفتہ کے بعد نور احمد طاعون سے مر گئے۔(حقیقة الوحی ،روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۳۷) ۵۔میاں معراج دین صاحب لاہور سے لکھتے ہیں کہ مولوی زین العابدین جو مولوی فاضل اور منشی فاضل کے امتحانات پاس کردہ تھا۔۔۔انجمن حمایت اسلام لاہور کا ایک مقرب مدرس تھا۔اس نے حضور کے صدق کے بارہ میں مولوی محمد علی سیالکوٹی سے کشمیری بازار میں ایک دکان پر کھڑے ہو کر مباہلہ کیا۔پھر تھوڑے دنوں کے بعد مرض طاعون سے مر گیا اور نہ صرف وہ بلکہ اس کی بیوی بھی طاعون سے مرگئی اور اس کا داماد بھی جو اکاؤنٹنٹ جنرل میں ملازم تھا طاعون سے مر گیا۔اس طرح اس کے گھر کے سترہ آدمی مباہلہ کے بعد طاعون سے ہلاک (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۳۷-۲۳۸) ہو گئے۔۶۔میاں معراج دین لکھتے ہیں کہ ایسا ہی کریم بخش نام لاہور میں ایک ٹھیکیدار تھا سخت بے ادبی اور گستانی حضور کے حق میں کرتا تھا اور اکثر کر تا ہی رہتا تھا۔میں نے کئی دفعہ اس کو سمجھایا مگر وہ باز نہ آیا۔آخر جوانی میں ہی شکار موت ہوا۔ے۔سید حامد شاہ صاحب سیالکوٹی لکھتے ہیں کہ حافظ سلطان سیالکوٹی حضور کا سخت مخالف تھا۔یہ وہی شخص تھا جس نے ارادہ کیا تھا کہ سیالکوٹ میں آپ کی سواری گذرنے پر آپ پر راکھ ڈالے آخر وہ سخت طاعون سے اسی ۱۹۰۶ء میں ہلاک ہوا اور اس کے گھر کے نو یا دس آدمی بھی طاعون سے ہلاک ہوئے۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۳۸) 90 00