حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 87
حوادث طبیعی یا عذاب الہی ملاحت ہے عجب اس دلستاں میں ہوئے بدنام ہم اس جہاں میں ہوا مجھ پدر وہ ظاہر میرا ہادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي یہ کیسی بلائے زمانہ تھی، یہ کیسا حادثہ طبعی تھا کہ احمدیت کو کم کرنے کی بجائے اور بھی بڑھا گیا دشمنان احمدیت کو بڑھانے کی بجائے کم کر گیا اور کمتر کرتا چلا گیا۔یہ سلوک ، یہ اطوار ، یہ ادائیں تو بلاشبہ ایسے عذاب الہی کی نشاندہی کر رہے ہیں جو اپنے اور غیروں میں ہمیشہ امتیاز کیا کرتا ہے۔کوئی ہم پر شاعری کا الزام نہ دھرے اور مضمون آفرینی کے طعنے نہ دے۔تاریخ احمدیت کا یہ دور ہی کچھ ایسا وجد آفرین ہے کہ اس کے نظارہ سے طبیعت جھومنے لگتی ہے اور قلم روش روش پر دوڑتا ہے اور قابو میں نہیں رہتا۔پس قارئین مجھے طرز تحریر کی اس تھوڑی سی تبدیلی پر معاف کریں اور معذور جانیں۔یہ مشاہدہ بہت ہی ہیجان خیز ہے کہ وقت کا پہیہ اپنے ابدی سفر کے دوران جب طاعون کی خشمگیں فضا میں سے گزرے تو ہر دوسرے مذہب اور فرقہ کو تو کمزور اور چھوٹا کر جائے لیکن احمدیت کو پہلے سے بھی بڑھ کر طاقتور اور کثیر التعد اد بنادے۔لا مذہب لوگوں کی طرف سے اس موقعہ پر ایک اعتراض یہ اٹھایا جاسکتا ہے کہ ممکن ہے کہ خوف کے عام قانون کے تابع ایسا ہوا ہو۔جب دنیا پر کوئی بڑی اور عام تباہی آتی ہے تو بالعموم زود اعتقاد عوام اس قسم کا رد عمل دکھایا ہی کرتے ہیں۔عوام تو عوام خواص بھی ایسے موقعوں پر یہ تو ہمات کا شکار ہو جاتے ہیں حتی کہ جان بچانے کے لئے تنکوں کے سہارے سے بھی گریز نہیں کرتے۔پس ممکن ہے اس قسم کی کوئی نفسیاتی کیفیت ان دنوں احمدیت کی طرف میلان کا محرک بنی ہو۔یہ اعتراض بظاہر بڑا وزنی نظر آتا ہے لیکن جب ہم اسے حقائق کی میزان پر تولتے ہیں تو وزن میں خس کے ایک چھوٹے سے تنکے سے بھی کمتر پاتے ہیں۔احمدیت کی طرف سے اس اعتراض کے جواب میں یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ اگر خوف وہر اس کی کوئی عام نفسیاتی کیفیت ہی احمدیت کی طرف لوگوں کے رجحان کی ذمہ دار تھی تو اس عام نفسیاتی کیفیت نے دوسرے مذاہب 87