حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 67 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 67

حوادث طبعی یا عذاب الہی فوقتاً دنیا کے مختلف ممالک میں ظاہر ہوتی رہی تو ۱۸۹۷ء میں یعنی سترہ سال بعد حضرت مرزا صاحب کا طاعون کی وبا کو عذاب الہی قرار دینا اور اپنی تائید میں بطور نشان اس کی پیش گوئی کرنا کیا معنے رکھتا ہے؟ کیوں نہ یہ گمان کیا جائے کہ آپ نے یہ اندازہ لگا کر کہ یہ وبا اب زیادہ شدت اختیار کر جائے گی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک پیشگوئی کر دی۔اس کا ایک جواب تو خود شق اول ہی میں گزر چکا ہے یعنی یہ کہ اس پیش گوئی سے قبل اور بعد کے اعدادوشمار میں حیرت انگیز فرق فی ذاتہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آپ کی پیشگوئی کسی انسانی تخمینہ کے نتیجہ میں نہیں بلکہ عالم الغیب ہستی کی طرف سے دی جانے والی خبر کے نتیجہ میں تھی۔اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ اس پیش گوئی میں محض یہ دعوی نہ تھا کہ طاعون بصورت عذاب الہی بڑی شدت کے ساتھ اس ملک پر حملہ آور ہو گا بلکہ اس کے ساتھ یہ عجیب دعوی بھی تھا کہ قادیان کی بستی اس وبا سے غیر معمولی طور پر محفوظ رکھی جائے گی اور یہ دعویٰ بڑے کھلے لفظوں میں کیا گیا تھا کہ قادیان میں طاعون داخل ہوئی بھی تو محض معمولی حیثیت اور درجہ کی ہو گی۔اور ایسی وبا سے خدا تعالیٰ اس بستی کو محفوظ رکھے گا جو دیگر دیہات اور بستیوں کی طرح یہاں بھی سخت تباہی مچائے۔مبادا کسی کو یہ خیال گزرے کہ طاعون کے زمانہ میں ایسا دعویٰ کر دینا کوئی بڑی بات نہ تھی اور جو چاہتا آسانی سے ایسا دعویٰ کر سکتا تھا۔ہم اس وہم کے ازالہ کے لیے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام ہی کے الفاظ میں وہ چیلنج پیش کرتے ہیں جو اس بارہ میں باقی اہل مذاہب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیا لیکن کسی کو توفیق نہ ملی کہ اسے قبول کرے۔حضور نے فرمایا: ”جو شخص ان تمام فرقوں میں اپنے مذہب کی سچائی کا ثبوت دینا چاہتا ہے تو اب بہت عمدہ موقع ہے گویا خدا کی طرف سے تمام مذاہب کی سچائی یا کذب پہچاننے کے لیے نمائش گاہ مقرر کیا گیا ہے اور خدا نے سبقت کر کے اپنی طرف سے پہلے قادیان کا نام لے دیا ہے۔اب اگر آریہ لوگ وید کو سچا سمجھتے ہیں تو ان کو چاہیے کہ 67