حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 55 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 55

حوادث طبیعی یا عذاب الہی طاعون کے جس دور آخر کا ہم نے ذکر کیا ہے اس کا پہلی مرتبہ ۱۸۸۰ء میں میسوپوٹیمیا کے علاقہ سے آغاز ہوا۔یہ بعینہ وہی دور ہے جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہندوستان کی ایک گمنام بستی قادیان میں اسلام کی حمایت میں ایک عظیم دفاعی جنگ لڑ رہے تھے آپ کو زمانہ کے امام کی حیثیت سے ماموریت کی خلعت پہنائی جارہی تھی۔ظہور طاعون کا اس زمانہ سے انطباق یقیناً معنی خیز ہے۔لیکن اس سے بڑھ کر تعجب کی بات یہ ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو واضح طور پر یہ خبر نہ دی کہ طاعون عذاب الہی کی شکل اختیار کرنے والی ہے اس وقت تک طاعون کو کھل کھیلنے کی توفیق عطا نہ ہوئی۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے کسی ہولناک درندے کو مضبوط زنجیروں سے جکڑا ہوا ہو، اسے ہم غیظ و غضب میں بل کھاتے ہوئے دیکھ رہے ہوں اور اس کی چنگھاڑ بھی سن رہے ہوں لیکن ابھی اس کی زنجیریں کھولی نہ گئی ہوں۔۔۱۸۹۷ء میں پہلی مرتبہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو یہ خبر دی کہ قادیان میں طاعون داخل ہو گئی ہے۔اس وقت تک اگر چہ گزشتہ سترہ سال میں کئی مرتبہ طاعون کے متفرق حملے ہندوستان میں بعض جنوب اور جنوب مغربی علاقوں پر ہو چکے تھے لیکن پنجاب ان کے اثر سے محفوظ تھا۔اس واضح خبر کے باوجود آپ نے بعض وجوہ سے قادیان میں طاعون کے ظاہر ہونے کی اور تعبیر فرمائی اور خیال کیا کہ شائد اس سے مراد خارش کی قسم کی کوئی بیماری ہو۔1 اس کے چند ماہ بعد اللہ تعالیٰ نے بڑی وضاحت کے ساتھ آپ کو طاعون کے پنجاب میں شدت سے پھیل جانے کی خبر دی جس سے آپ اس حد تک متاثر ہوئے کہ آپ نے اشتہار کے ذریعہ ۶ فروری ۱۸۹۸ء کو پنجاب کو خصوصاً اور تمام ہندوستان کو عموماً حسب ذیل الفاظ میں اس خبر سے متنبہ کیا:۔” ہماری گورنمنٹ محسنہ نے کمال ہمدردی سے تدبیریں کیں اور اپنی رعایا پر نظر شفقت کر کے لکھو کھا روپیہ کا خرچ اپنے ذمہ ڈال لیا اور قواعد طبیہ کے لحاظ سے جہاں تک ممکن تھا ہدایتیں شائع کیں مگر اس مرض مہلک سے اب تک بکلی 1 الحکم جلد نمبر ۵۔۲۳ نومبر ۱۸۹۷ء صفحہ ۴۔55