حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 54 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 54

حوادث طبیعی یا عذاب الہی اولیاء اللہ کے تذکرہ میں یہ مشہور روایت ہے جو ہمارے اس نظریہ کی تائید کرتی ہوئی نظر آتی ہے کہ جب بغداد پر چنگیزیوں کا لشکر حملہ آور ہوا تو خلیفہ معتصم نے ایک بزرگ کی خدمت میں بصد عجز ومنت دعا کی درخواست کی۔دوسرے روز اس بزرگ کا یہ پیغام اس خلیفہ کو پہنچا کہ ساری رات میں دعا کر تار ہا لیکن مجھے جواب میں یہ الہام ہو تار بایا آئیهَا الْكُفَّارُ اقْتُلُوا الْفُجَارَ۔کہ اے کا فرو! فاجروں (یعنی بد اعمال مسلمانوں) کو قتل کرو۔پس اللہ تعالیٰ کی تقدیر یہی معلوم ہوتی ہے کہ مسلمان اس سزا سے بچ نہیں سکیں گے۔طاعون کا دور آخر چودھویں صدی عیسوی میں ایک عالمگیر تباہی مچانے کے بعد طاعون ایک دفعہ پھر نظروں سے غائب ہو گئی اور کچھ اس طرح غائب ہوئی کہ گویا اس کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔اس مر تبہ اس نے چھ صدیوں تک پھر دنیا کا منہ نہ دیکھا اور نہ زمین سوراخوں میں روپوش رہی، بعد ازاں اسی طرح جیسے اس نے حضرت عیسی علیہ السلام کے واقعہ صلیب کے بعد چودھویں صدی میں سر نکالا تھا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد تیرھویں صدی کے آخر میں طاعون کی مرض ایک دفعہ پھر اپنے بلوں سے باہر نکلنا شروع ہوئی اور چودھویں صدی میں پورے عروج پر پہنچ گئی۔بظاہر یہ سب اتفاقی حادثات ہیں۔جنہیں سائنسی اصطلاح میں (Great Circles) یعنی وسیع دائرے کہا جائے گا۔لیکن اہل ایمان کے لیے یقیناً اس امر میں فکر کا بڑا مواد ہے کہ یہ وسیع دائرے نیکی اور بدی، ظہورِ رسالت اور انکارِ رسالت، نور اور ظلمت، مظلومیت اور ظلم کے وسیع دائروں کے ساتھ حیرت انگیز طور پر مطابقت رکھتے ہیں۔ایک بد مذہب جو چاہے سوچے اور ہمارے اس طرز فکر کو جس طرح چاہے تو ہمات اور ضعیف الاعتقادی قرار دے لیکن جوں جوں یہ بات آگے بڑھے گی ہمارے مضمون کا دوسراحصہ جو طاعون کے دورِ آخر سے تعلق رکھتا ہے بعض ایسے تازہ مشاہدات پر بحث کرے گا جو ایک منصف مزاج کو اس بات کا قائل کرنے کے لیے کافی ہوں گے کہ بات حوادث کے دائرہ سے بہت آگے نکل چکی ہے اور یقیناً حوادث زمانہ کی بجائے کوئی اور قانون اس وبا کے پس پردہ کار فرما نظر آتا ہے۔54